بلوچستان ہائیکورٹ ، سیکرٹری خزانہ ذاتی حیثیت میں طلب، کوئٹہ میں لوڈر رکشوں اور خستہ حال بسوں پر پابندی

غیر قانونی رکشوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کارروائی ہوگی ‘ حکام نے رپورٹ جمع کرادی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائیکورٹ نے ٹریفک پولیس کو گاڑیوں اور آلات کی خریداری کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری فنانس کو حکم دیا ہے کہ وہ فنڈز کا اجرا یقینی بنائیں ورنہ ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔
یہ احکامات چیف جسٹس بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے آئینی درخواست نمبر 1951/2022 کی سماعت کے دوران جاری کیے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کی جانب سے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ ٹریفک پولیس نے خستہ حال لوکل بسوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 64 بسیں بند (ڈیٹین) کر دی ہیں ۔ بس مالکان نے ٹریفک مجسٹریٹ کی عدالت میں شورٹی بانڈ جمع کرائے ہیں کہ وہ یہ بسیں روٹس پر نہیں چلائیں گے، جبکہ ان کے روٹ پرمٹ منسوخ کرنے کے لیے لسٹ آر ٹی اے کو بھجوا دی گئی ہے ۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کمشنر اور چیئرمین آر ٹی اے نے کوئٹہ شہر کی حدود میں ہر قسم کے چنگ چی موٹر بائیک ٹرالیوں اور لوڈرز پر پابندی عائد کر دی ہے، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے ٹریفک پولیس نے 111 چنگ چی ٹرالیوں کو تحویل میں لے لیا ہے ۔
غیر قانونی رکشوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایس ایس پی ٹریفک کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ قانونی رکشوں کو RFID اسٹیکرز جاری کیے جائیں گے جس کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ٹریفک پولیس کو گاڑیوں اور گیجٹس کی خریداری کے لیے 188.7 ملین روپے کی ڈیمانڈ محکمہ خزانہ میں زیر التواء ہے ۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی احکامات کے باوجود فنڈز کا جاری نہ ہونا ایگزیکٹو برانچ کی جانب سے ناپسندیدہ رویہ ہے ۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی آئی جی کوئٹہ کو بھی ہدایت کی کہ لیویز کے انضمام کے بعد اب آر ٹی اے کی درخواست پر پولیس نفری کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ کیس کی مزید سماعت 8 جنوری 2025 کو ہوگی ۔

WhatsApp
Get Alert