کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات: پرانی مردم شماری پر الیکشن سے 4 لاکھ شہری حق رائے دہی سے محروم ہورہے تھے، التواء کے بعد انتخابی فہرستیں درست کی جائیں: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ہر سطح پر، ہر لحاظ سے اور بھرپور تیاری کر رکھی تھی۔ پارٹی ان دو بڑی سیاسی جماعتوں میں شامل تھی جنہوں نے کوئٹہ شہر میں سب سے زیادہ بلدیاتی کونسلرز نامزد کیے تھے، جن کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کو بجا طور پر یہ امید تھی کہ کوئٹہ کے باشعور عوام پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے نامزد امیدواروں اور ان کے انتخابی نشان انگور پر مہر لگا کر انہیں کامیاب بنائیں گے۔ اس سلسلے میں کوئٹہ کے چاروں ٹاؤنز، تمام یونین کونسلز اور وارڈز کی سطح پر تنظیمی اور انتخابی تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات نئی مردم شماری کے بجائے پرانی مردم شماری کی بنیاد پر کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کوئٹہ شہر کی کم و بیش چار لاکھ آبادی بلدیاتی انتخابی عمل سے محروم ہو جاتی۔ اسی ناانصافی کے خلاف پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے آج سے ڈھائی سال قبل بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ پارٹی کا مؤقف یہ تھا کہ نئی مردم شماری کے مطابق کوئٹہ کی آبادی تقریباً 26 لاکھ ہو چکی ہے، جبکہ عام انتخابات 2024 بھی نئی مردم شماری کی بنیاد پر منعقد ہوئے، مگر بلدیاتی انتخابات پرانی مردم شماری یعنی 22 لاکھ آبادی کی بنیاد پر کرائے جا رہے تھے، جس سے چار لاکھ شہری اپنے بنیادی جمہوری حقِ رائے دہی سے محروم ہو جاتے۔ بعد ازاں عدالت عالیہ نے بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا، جس پر پارٹی نے انتخابی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کیا۔ تاہم انتخابی عمل کے مختلف مراحل میں جب غفلت، کمزوریاں اور بے ضابطگیاں سامنے آنے لگیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ انتخابی فہرستوں میں سنگین نوعیت کی دھاندلی کی گئی ہے۔ ووٹرز کے نام ایک علاقے سے نکال کر دوسرے علاقوں میں منتقل کیے گئے، جبکہ قبضہ مافیا نے اپنے مفادات کے لیے مخصوص وارڈز تشکیل دلوائے۔ بیان میں انکشاف کیا گیا کہ بعض وارڈز ایسے بھی بنائے گئے جن میں محض تین ووٹرز شامل تھے، جبکہ کہیں دس، تیرہ، بیس، پچاس اور سو ووٹوں پر مشتمل وارڈز قائم کیے گئے۔ یہاں تک کہ بعض بااثر افراد نے اپنے گھروں پر مشتمل وارڈز بنا کر میاں، بیوی اور بیٹوں کو بلا مقابلہ منتخب کروایا۔ اس کے علاوہ انتخابی نتائج دو دن بعد جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انتخابی دھاندلی ایک منظم منصوبے کے تحت کی جا رہی تھی۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس دوران اراکین اسمبلی اور وزرائ￿ کی جانب سے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال بھی کیا گیا، جس کے خلاف پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر، صوبائی الیکشن کمشنر، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسرز کو تحریری طور پر آگاہ کیا، مگر افسوسناک طور پر اس پر کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ آخر میں بیان میں کہا گیا ہے کہ اب جبکہ بلدیاتی انتخابات ملتوی ہو چکے ہیں، الیکشن کمیشن کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ انتخابی فہرستوں کی فوری طور پر تصحیح کرے، نئی مردم شماری کے مطابق منصفانہ حلقہ بندیاں عمل میں لائے، اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جنہوں نے اپنے خاندانوں اور ذاتی مفادات کے لیے غیر قانونی وارڈز تشکیل دے کر جمہوری عمل کو یرغمال بنایا۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ شفاف، منصفانہ اور آئینی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات ہی عوام کے مسائل کے حل اور جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہیں۔

WhatsApp
Get Alert