پشتونخوا وطن معدنیات سے مالا مال مگر کارخانے پنجاب اور کراچی میں ہیں، وسائل پر حق ملکیت کیلئے فیصلہ کن جدوجہد کرنا ہوگی: خوشحال خان کاکڑ

پشین(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پشین کے زیرِ اہتمام ضلع کمیٹی کا توسیعی اجلاس پارٹی کے رہنما حاجی ذکریا خان کی رہائش گاہ پر پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور حاجی ذکریا خان نے تفصیلی خطاب کیا۔ جبکہ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض ضلع سیکریٹری محمود ریاض نے انجام دیے اور قاری حبیب الرحمن نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے پشین کے تمام کارکنوں کو کامیاب ضلعی کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پشین کے باشعور، باکردار اور وفادار کارکنوں نے عوام کی بھرپور حمایت سے گزشتہ انتخابات میں پارٹی کو پشین میں پارلیمانی پارٹی کا مقام دلایا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قومی اسمبلی کی نشست پر ہماری واضح برتری کو مخالف امیدوار کی کامیابی میں تبدیل کیا گیا، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پشین کے عوام نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشین کے محنت کش عوام ملک کے مختلف علاقوں میں روزگار کے لیے آباد ہیں، جنہوں نے پشتونخوا نیپ کے تنظیمی یونٹوں کے قیام اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پشتون قومی تحریک کی ایک رہنما جماعت ہے، جس نے پشتون افغان ملت کو قومی محکومی، جبر اور استبداد سے نجات دلانے کو اپنے منشور اور پروگرام کا بنیادی ہدف قرار دیا ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ پارٹی آئین، پارٹی صفوں کو منظم کرنے اور اداروں کے ذریعے جدوجہد کو آگے بڑھانے کی رہنمائی کرتا ہے۔ پارٹی کے تمام کارکنان پر آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی پابندی عائد ہوتی ہے۔ پارٹی کے ہر ادارے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کارکنوں کی علمی، نظریاتی اور تنظیمی تربیت کرے، ان کی غلطیوں کی اصلاح کرے اور ناقابلِ اصلاح عناصر کے خلاف آئینی تقاضوں کے مطابق تادیبی کارروائی عمل میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ پشین کو ہماری قومی تاریخ میں ایک خصوصی مقام حاصل ہے۔ یہاں کے کارکنوں کو شب و روز محنت کرکے پشتونخوا نیپ کو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ جماعت بنانا ہوگا۔ ہمارا نظریہ اور بیانیہ قومی اہداف کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتون افغان ملت اس وقت تاریخ کی بدترین صورتحال سے دوچار ہے۔ ہمارے کروڑوں عوام روزگار، تعلیم، صحت اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہمارے جان و مال اور عزت و ناموس کے تحفظ کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہی۔ پشتونخوا وطن قدرت کے قیمتی معدنی وسائل اور زرخیز زمینوں سے مالامال ہے، لیکن تمام بڑے کارخانے پنجاب اور کراچی میں قائم ہیں۔ ہر قسم کی صنعت کا خام مال پشتونخوا وطن میں موجود ہونے کے باوجود یہاں ایک بھی بڑا صنعتی ادارہ قائم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں عوام کی بڑی تعداد کو روزگار صنعتوں کے قیام اور زراعت کی ترقی سے حاصل ہوتا ہے، مگر ہمارے قدرتی وسائل اور زمینوں سے ہمارے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ جب تک ہمارے وسائل پر ہمارا قومی حقِ ملکیت قائم نہیں ہوتا، اس وقت تک ہمارے عوام کا خوشحال مستقبل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بہادر کارکنوں اور وطن دوست عوام کو استعماری حکمرانی سے نجات اور اپنے وطن پر عوام کے جمہوری اقتدار کے قیام کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کرنا ہوگی۔ پشتونخوا نیپ نے ہر مرحلے پر پشتونخوا وطن کی تمام جمہوری اور قومی سیاسی جماعتوں کو قومی اور وطنی بنیادوں پر ایک قومی محاذ میں متحد کرنے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ اذیت ناک صورتحال سے نجات کے لیے لازم ہے کہ تمام وطن دوست جمہوری قوتیں متحد ہوں، کیونکہ قومی وجود کی بقا، ملی وحدت، وسائل کا تحفظ اور آزاد افغانستان کی سلامتی و خودمختاری کا دفاع قومی اتحاد و اتفاق کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قومی تحریک مزید غلطیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ استعماری حکمرانوں نے ہر شعبۂ زندگی میں پشتون افغان ملت کا معاشی قتلِ عام جاری رکھا ہوا ہے، جس کا مقصد ہماری قومی محکومی کو طول دینا ہے۔ اس ملک میں قومی برابری، متحدہ قومی صوبہ پشتونخوا کے قیام اور اپنے وطن پر قومی جمہوری اقتدار کے حصول کے لیے پشتونخوا نیپ کے پلیٹ فارم سے متحد اور منظم ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی اور قومی نجات کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اجلاس کے اختتام پر پشین کے علاقہ منزری کے ممتاز قبائلی رہنما مرحوم حاجی بریگیڈ اچکزئی کے فرزند حاجی عبدالنافع اچکزئی اور رود ملازئی یوسف کچھ کے عبدالظاہر خان کی قیادت میں معزز قبائلی و سیاسی خاندانوں نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
