سچ بولنے والا غدار، بکنے والا وفادار قرار، ہم ظلم مٹانے نکلے ہیں: محمود اچکزئی کا لاہور میں دبنگ خطاب

لاہور(ڈیلی قدرت کوئٹہ ) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ و پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محبوب چیئرمین مشر محمودخان اچکزئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ راجہ ناصر عباس کا علی الصبح چوہدری عباس کے گھر آمد۔ جہاں پر لاہور کے باشندوں ممتاز و معروف سینئر صحافیوں جناب حسن نثار صاحب، جناب سہیل وڑائچ صاحب، جناب اوریا مقبول جان صاحب، میاں افتخار احمد صاحب، معروف وکلاء رہنما لطیف کھوسہ صاحب، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر معین قریشی صاحب سمیت وکلاء، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے استقبال کیا۔ مہمانوں کے استقبال کے لیے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں، جبکہ میزبان چوہدری غلام حسین نے معزز شخصیات کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔اس موقع پر جناب لطیف کھوسہ سینیٹر علی ظفر اوون بھٹی صاحب پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین قریشی اشتیاق اے جان لاہور ہائی کورٹ بار کے صدارتی امیدوار بابر مرتضی غلام عباس صاحب علی ظفر صاحب عابد ساقی صاحب اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری جبکہ صدارتی خطاب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمودخان اچکزئی نے خطاب کیا۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ زندہ دلان لاہور ہم آپکے شہر میں آئے ہوئے ہیں لاہور عالم فاضل لوگوں کا شہر ہے ہم اس لئے نہیں آئے کہ لاہور والوں کو لیکچر دیں بلکہ ہم اس لئے آئے ہیں کہ یہ ملک ہم سب کی بدکاریوں نا اہلیوں کی وجہ سے ہمہ جہت بحرانوں میں مبتلا ہوچکا ہے اب ان بحرانوں سے نکلنے کیلئے عوام کو ہمت کرنی ہوگی یہ ملک اگرچہ بہترین قیمتی وسائل اور محنت کش لوگوں کا ملک ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے عوام بھوکوں مر رہے ہیں۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ کون ہیں وہ لوگ جو دین کو جھٹلاتے ہیں اور مسکینوں یتیموں بے سہاروں کے سر پر ہاتھ نہیں رکتھے اور غریب کی روٹی کا بندوبست نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دین کو جھٹلاتے ہیں۔ آئیں ہمارے ساتھ عقل شریک کریں یہ ہمارا ملک ہے اس کو ہم نے بچانا ہے ابھی جو آٹھ فروری کا الیکشن ہوا اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی کہ ملک کی اعلی عدالت سب سے بڑی پارٹی سے انکا انتخابی نشان چھین لے دو سو سے زائد انتخابی نشانات پر الیکشن لڑی یہ تو جوانوں کی سونامی تھی کہ تمام ملک کی سیٹیں جیت لیں لیکن زر اور زور کی بنیاد پر فارم 47 کے ذریعے تمام سیٹیں چھین لی گئیں دن بہ دن یہ ملک ان حکمرانوں غلط حکمرانوں کی وجہ سے کھڈے میں گر رہا ہے ان حکمرانوں کے اپنے گھروں میں خواتین کو بھی پتہ ہے کہ ہم نے الیکشن نہیں جیتا۔ قرآن کریم حکم دیتا ہے کہ آپ عدل کریں تاکہ تقوی کے قریب ہوں جب انصاف نہیں ہوگا تو نفرتیں جنم لینگی اور نفرتیں کدورتوں اور جنگوں کو جنم دیتی ہیں۔ آج اس ملک میں جو کوئی سچ کہتا ہے وہ غدار ہے اور جو بکتا ہے وہ وفادار ہے۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ ہم ہر حال میں سچ کہینگے فرعون تم سے زیادہ طاقتور اور بڑا ظالم تھا بچوں کو زندہ دفن کردیتا تھا لیکن یہ اللہ تعالی کا نظام ہے کہ ظالم اور مظلوم کی لڑائی میں اللہ تعالی خود فرماتا ہے کہ میں مظلوم کے ساتھ ہوں۔ ہم بھی مظلوموں کا لشکر بنانے نکلے ہیں اور لاہور آئے ہیں اس نعرے کے ساتھ کہ ہم ظلم مٹانے نکلے ہیں آو ہمارے ساتھ چلو ہم آپ سے کچھ لینے نہیں آئے بس صرف ظالم کے خلاف جدوجہد میں ہمیں اپنا حصہ دو اگر آپ لوگ ساتھ نہیں دے سکتے تو ہمیں دعا دیں۔ بغاوت اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہی انکار سے شروع ہوتا ہے۔محمودخان اچکزئی نے کہا کہ ہماری نہ نوازشریف سے کوئی دشمنی ہے نہ ہی شہبازشریف سے جھگڑا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی دراصل تربیت ہی غلط ہوتی ہے ایک پنڈ سے ایف اے پاس ہوتا ہے میجر بن جاتا ہے ان کو ایسی تربیت دی جاتی ہے کہ اسے عوام سے گھن آتی ہے۔ یہ کام انکا نہیں ہے وہ لوگ اپنے کام سے کام رکھیں ہم گھاس کھا کر ان لوگوں کی وردیوں تنخواہوں کا بندوبست کرینگے لیکن ہر کام کیلئے اپنے اپنے ماہر موجود ہوتے ہیں جس طرح خوشحال خان خٹک نے فرمایا ہے کہ تلوار تیز ہوتی ہے تو وار کیلئے اور ہر آدمی پیدا ہوتا ہے اپنے اپنے کام کیلئے ہر ایک کا اپنا اپنا کام ہوتا ہے۔ دھونس دھمکیوں ڈنڈوں سے کام نہیں چلے گا۔ ہم اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ آرہے تھے راستے میں پولیس والے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے ہم نے اپنا کام کرنا تھا پولیس کسی شخص یا کسی حکومت کی نہیں ہوتی پولیس اس ملک کی ہوتی ہے پاکستان کی پولیس آج بھی مضبوط ہے لیکن ہر ایس ایچ او کو پتہ ہوتا ہے کہ ہمارے علاقے میں کیا ہورہا ہے ہم خود اپنی ملٹری اور اپنے پولیس کو کرپٹ کر رہے ہیں۔ ہم ایک ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جہاں آئین کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی ہو۔
