پی ٹی آئی کا حصہ ہوں ‘ مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی کے پاس ہے ‘ فواد چوہدری بارے سوال پر شاہ محمود قریشی کا صحافی کو جواب


لاہور(قدرت روزنامہ)سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو لاہور کی اے ٹی سی کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ان کی 3 مقدمات میں ضمانت میں 19 جنوری تک توسیع کر دی ہے، اس موقع پر عدالت میں ان کی اسد عمر سے ملاقات ہوئی اور دونوں کے درمیان سرگوشیاں بھی ہوئیں ۔
میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ 2026 کو پاکستان کے لیے بہتر کرے اور ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے، انہوں نے فواد چوہدری کی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے بارے میں سوال پر کہا کہ میں پارٹی کا وائس چیئرمین ہوں اور پارٹی پالیسی سے نہیں ہٹ سکتا، تاہم یہ سوچنا ہوگا کہ اس سیاسی کشمکش کا حل کیا ہے کیونکہ مزاحمت کے بعد تو مفاہمت ہی ہوتی ہے اور گفتگو سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا مکمل اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہوا ہے اور وہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کیا کرنا ہے، ہم جیل میں ہیں اس لیے معلومات کم آتی ہیں ۔ فواد چوہدری سے ملاقات پر انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی پارٹی میں رہے ہیں، وہ اسپتال میں میری عیادت کے لیے آئے تھے اور اگر کوئی مہمان گھر آئے تو اسے یہ نہیں کہہ سکتے کہ کیوں آئے ہو؟ ۔
خارجہ امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو جنگ میں ہرایا مگر ابھی تک خطرہ ٹلا نہیں ہے، جبکہ افغانستان کے لیے خوشحالی کا راستہ پاکستان ہے اور استحکام کے لیے اسے پاکستان سے اچھے تعلقات رکھنا ہوں گے، آخر میں انہوں نے دعا کی کہ انہیں جیل سے عزت کے ساتھ رہائی نصیب ہو ۔

WhatsApp
Get Alert