پارلیمنٹ کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہ بنائیں,اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے پارلیمنٹ کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہ بنائیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئےکہا نواز شریف دور میں مشاہد حسین اور وسیم سجاد کمیٹی نے متفقہ طور پر افغانستان سے پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے کی سفارش کی تھی، آج ان فیصلوں کی تذلیل کیوں؟ جس بے عزتی سے افغانیوں کو نکالا گیا کیا یہ انسانیت ہے؟ پارلیمنٹ نے جنہیں حقوق دینے کا وعدہ کیا، آج انہیں در بدر کیا جا رہا ہے۔ ترامیم کے ذریعے پارلیمنٹ کے اپنے پر کاٹنا بند کریں۔ آئین مقدس ہے اور اس کی طاقت کا سرچشمہ صرف عوام کی منتخب کردہ یہ پارلیمنٹ ہونی چاہیے۔​ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کے بجائے جمہوریت اور آئین کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ہر وہ شخص جو آئین کا احترام کرتا ہے، وہ اس ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا جب بلوچ، پشتون اور غیور قبائل انگریز کے خلاف زمین کے ایک ایک انچ کے لیے لڑ رہے تھے تب کچھ لوگ برطانوی فوج کا حصہ بن کر اپنوں کو مار رہے تھے۔ ہم فخر نہیں جتاتے لیکن اپنا حق مانگتے ہیں۔ووٹ کو عزت ملے گی تو ہی داخلہ و خارجہ پالیسیاں درست ہوں گی۔ پشتون، بلوچ، سندھی، پنجابی اور سرائیکی آبادی کے لحاظ سے حکمرانی میں سب کا برابر کا حق ہے۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں افغانستان نے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپا۔ اسے “پانچواں صوبہ” سمجھنے کی سوچ ترک کر کے برابری کی بنیاد پر دوستی کرنی ہوگی۔ ​طاقت کا سرچشمہ صرف پارلیمنٹ ہونی چاہیے۔ جب تک عوام کے ووٹ کی اہمیت نہیں ہوگی، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

WhatsApp
Get Alert