خوشحال خان کاکڑ کی تقریر کے دوران لائیو نشریات کی اچانک بندش جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات پر حملہ ہے، عوام کی آواز دبانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


اسلام آباد (ڈیلی قدرت نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ کی تقریر کے دوران لائیو نشریات اچانک بند کیے جانے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات اور اظہارِ رائے کی آزادی پر کھلا حملہ قرار دیا گیا ہے؛ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-251 سے کامیابی کے باوجود تقریباً دو سال تک مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں آنے سے روکے رکھا گیا، بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلے کے نتیجے میں انہیں کامیاب امیدوار قرار دیا گیا اور ان کی پارلیمانی حیثیت بحال ہوئی، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ ایوان میں حلف برداری کے بعد بھی انہیں مسلسل ایک ہفتے تک اظہارِ خیال کا موقع فراہم نہیں کیا گیا اور آج جب وہ باقاعدہ طور پر اپنی تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو اچانک لائیو نشریات بند کر دی گئیں اور اسپیکر کی جانب سے بار بار مداخلت کے ذریعے ان کی تقریر محدود کرنے کی کوشش کی گئی، جو انتہائی قابلِ افسوس اور جمہوری اقدار کے منافی عمل ہے؛ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی ملک کا اعلیٰ ترین جمہوری فورم ہے جہاں عوام کے منتخب نمائندے اپنے حلقوں کے مسائل، عوامی محرومیوں اور قومی معاملات پر آزادانہ اظہارِ خیال کرتے ہیں، اگر اسی ایوان میں کسی منتخب رکن کو اپنے عوام کی آواز بلند کرنے سے روکا جائے اور اس کی تقریر کو جان بوجھ کر عوام تک پہنچنے سے روک دیا جائے تو اس سے پارلیمانی نظام کی ساکھ اور جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد شدید متاثر ہوتا ہے، ایسے اقدامات یہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ آیا پارلیمان واقعی عوامی نمائندگی کا مؤثر ادارہ ہے یا محض ایک رسمی کارروائی تک محدود کر دیا گیا ہے؛ بیان میں مزید کہا گیا کہ خوشحال خان کاکڑ اپنی تقریر میں ملک کے پسماندہ علاقوں، خصوصاً پشتون خطوں کے عوام کو درپیش سنگین مسائل، معاشی محرومیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، امن و امان کی صورتحال اور بنیادی آئینی حقوق کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے، تاہم ان کی آواز کو عوام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے نشریات بند کر دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض حلقے محکوم اقوام اور محروم طبقات کے مسائل کو قومی سطح پر زیرِ بحث آنے سے روکنا چاہتے ہیں؛ بیان میں کہا گیا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی عوام کے جائز مطالبات اور نمائندہ آوازوں کو دبانے کی کوشش کی گئی، مسائل حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوئے، آوازوں کو بند کرنے سے حقیقت ختم نہیں ہوتی بلکہ مزید شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے، کسی منتخب نمائندے کی آواز دبانا دراصل لاکھوں عوام کی آواز دبانے کے مترادف ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول عمل ہے؛ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ اگر پارلیمان کے اندر بھی عوامی نمائندوں کو آزادیٔ اظہار میسر نہ ہو اور مسلسل جمہوری جدوجہد کے باوجود عوام کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھا جائے تو اس سے عوام میں مایوسی، بے چینی اور سیاسی بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، ایسی صورتحال کسی بھی جمہوری ریاست کے لیے نیک شگون نہیں ہو سکتی؛ پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کا بنیادی اصول اختلافِ رائے کا احترام ہے، اختلافی آوازوں کو دبانے کے بجائے سننا، مکالمہ کرنا اور دلیل کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہی جمہوری روایت کی اصل روح ہے، اگر پارلیمان جیسے اہم ادارے میں بھی اختلافی اور عوامی آوازوں کو محدود کیا جائے تو اس سے جمہوری نظام کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں؛ پریس ریلیز میں مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی فوری اور شفاف وضاحت کی جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کسی بھی منتخب نمائندے کی تقریر میں مداخلت نہ کی جائے اور نہ ہی نشریات کو جان بوجھ کر بند کیا جائے، پارلیمان کی حرمت اور آئینی تقاضوں کے مطابق تمام ارکان کو بلا خوف و خطر اپنے عوام کے مسائل پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے؛ بیان کے اختتام پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہر قسم کے دباؤ، رکاوٹوں اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے باوجود اپنے عوام کے سیاسی، آئینی اور جمہوری حقوق، وسائل پر حقِ ملکیت اور حقیقی نمائندگی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی صورت میں عوام کی آواز کو دبنے نہیں دے گی۔خوشحال خان کاکڑ کی تقریر کے دوران لائیو نشریات کی اچانک بندش جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات پر حملہ ہے، عوام کی آواز دبانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
اسلام آباد (ڈیلی قدرت نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ کی تقریر کے دوران لائیو نشریات اچانک بند کیے جانے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات اور اظہارِ رائے کی آزادی پر کھلا حملہ قرار دیا گیا ہے؛ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-251 سے کامیابی کے باوجود تقریباً دو سال تک مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں آنے سے روکے رکھا گیا، بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلے کے نتیجے میں انہیں کامیاب امیدوار قرار دیا گیا اور ان کی پارلیمانی حیثیت بحال ہوئی، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ ایوان میں حلف برداری کے بعد بھی انہیں مسلسل ایک ہفتے تک اظہارِ خیال کا موقع فراہم نہیں کیا گیا اور آج جب وہ باقاعدہ طور پر اپنی تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو اچانک لائیو نشریات بند کر دی گئیں اور اسپیکر کی جانب سے بار بار مداخلت کے ذریعے ان کی تقریر محدود کرنے کی کوشش کی گئی، جو انتہائی قابلِ افسوس اور جمہوری اقدار کے منافی عمل ہے؛ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی ملک کا اعلیٰ ترین جمہوری فورم ہے جہاں عوام کے منتخب نمائندے اپنے حلقوں کے مسائل، عوامی محرومیوں اور قومی معاملات پر آزادانہ اظہارِ خیال کرتے ہیں، اگر اسی ایوان میں کسی منتخب رکن کو اپنے عوام کی آواز بلند کرنے سے روکا جائے اور اس کی تقریر کو جان بوجھ کر عوام تک پہنچنے سے روک دیا جائے تو اس سے پارلیمانی نظام کی ساکھ اور جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد شدید متاثر ہوتا ہے، ایسے اقدامات یہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ آیا پارلیمان واقعی عوامی نمائندگی کا مؤثر ادارہ ہے یا محض ایک رسمی کارروائی تک محدود کر دیا گیا ہے؛ بیان میں مزید کہا گیا کہ خوشحال خان کاکڑ اپنی تقریر میں ملک کے پسماندہ علاقوں، خصوصاً پشتون خطوں کے عوام کو درپیش سنگین مسائل، معاشی محرومیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، امن و امان کی صورتحال اور بنیادی آئینی حقوق کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے، تاہم ان کی آواز کو عوام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے نشریات بند کر دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض حلقے محکوم اقوام اور محروم طبقات کے مسائل کو قومی سطح پر زیرِ بحث آنے سے روکنا چاہتے ہیں؛ بیان میں کہا گیا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی عوام کے جائز مطالبات اور نمائندہ آوازوں کو دبانے کی کوشش کی گئی، مسائل حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوئے، آوازوں کو بند کرنے سے حقیقت ختم نہیں ہوتی بلکہ مزید شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے، کسی منتخب نمائندے کی آواز دبانا دراصل لاکھوں عوام کی آواز دبانے کے مترادف ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول عمل ہے؛ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ اگر پارلیمان کے اندر بھی عوامی نمائندوں کو آزادیٔ اظہار میسر نہ ہو اور مسلسل جمہوری جدوجہد کے باوجود عوام کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھا جائے تو اس سے عوام میں مایوسی، بے چینی اور سیاسی بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، ایسی صورتحال کسی بھی جمہوری ریاست کے لیے نیک شگون نہیں ہو سکتی؛ پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت کا بنیادی اصول اختلافِ رائے کا احترام ہے، اختلافی آوازوں کو دبانے کے بجائے سننا، مکالمہ کرنا اور دلیل کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہی جمہوری روایت کی اصل روح ہے، اگر پارلیمان جیسے اہم ادارے میں بھی اختلافی اور عوامی آوازوں کو محدود کیا جائے تو اس سے جمہوری نظام کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں؛ پریس ریلیز میں مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی فوری اور شفاف وضاحت کی جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کسی بھی منتخب نمائندے کی تقریر میں مداخلت نہ کی جائے اور نہ ہی نشریات کو جان بوجھ کر بند کیا جائے، پارلیمان کی حرمت اور آئینی تقاضوں کے مطابق تمام ارکان کو بلا خوف و خطر اپنے عوام کے مسائل پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے؛ بیان کے اختتام پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہر قسم کے دباؤ، رکاوٹوں اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے باوجود اپنے عوام کے سیاسی، آئینی اور جمہوری حقوق، وسائل پر حقِ ملکیت اور حقیقی نمائندگی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی صورت میں عوام کی آواز کو دبنے نہیں دے گی۔

WhatsApp
Get Alert