بلوچستان بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے، طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ معاشی حقوق کی فراہمی سے امن آئے گا، فارم 47 کے ذریعے مسلط نمائندوں نے حالات خراب کیے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ


(ڈیلی قدرت کوئٹہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے صوبے کی بگڑتی ہوئی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارڈرز کی مسلسل بندش نے تجارت اور کاروبار کو مفلوج کر دیا ہے، جبکہ حکومتی غفلت کے باعث شاہراہیں بھی غیر محفوظ ہو چکی ہیں؛ انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچستان اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے اور یہاں امن کا قیام قتل و غارت گری یا طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ عوام کو ان کے معاشی حقوق، تعلیم اور روزگار کی فراہمی سے ہی ممکن ہے، لہٰذا چمن، گوادر اور دیگر سرحدی راستوں کو فوری طور پر تجارت کے لیے کھولا جائے تاکہ مقامی معیشت کا پہیہ چل سکے؛ مولانا ہدایت الرحمن نے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے عوام پر نمائندے مسلط کرنے سے حالات مزید خراب ہوئے ہیں اور جب تک حقیقی جمہوریت اور عوامی نمائندگی کو تسلیم نہیں کیا جاتا، مسائل حل نہیں ہوں گے؛ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور انہیں قومی دھارے میں برابر کا شریک بنا کر ہی خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے؛ مزید برآں انہوں نے عید الفطر کی آمد کے موقع پر مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مہنگائی کے اس دور میں غریبوں اور سفید پوش طبقے کی بھرپور مالی مدد کریں تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

WhatsApp
Get Alert