بلوچستان میں دہشتگردی ، آپریشن، حملوں اور ٹریفک حادثات میں 5 افراد جاں بحق ، 15 زخمی، 7 دہشتگرد ہلاک ‘ تخریب کاری کی کوشش ناکام
پنجگور میں مسلح افراد کے حملے، سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 7 دہشتگرد ہلاک، 5 شہری بھی جاں بحق، کوئٹہ میں چیک پوسٹ اور کیمپ پر حملوں میں 4 اہلکار زخمی ہرنائی میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، کچھی سے بچی اغوا، 50 لاکھ تاوان کا مطالبہ، وزیر اعلیٰ کا نوٹس، نصیر آباد میں قبائلی کشیدگی برقرار مختلف ٹریفک حادثات میں بچہ جاں بحق، 5 افراد زخمی، حساس اداروں نے سوراب میں پل کے نیچے نصب 320 کلو بارودی مواد برآمد کر کے بڑی سازش ناکام بنا دی

پنجگور (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پنجگور میں مسلح افراد کا مختلف علاقوں میں حملے فائرنگ و دھماکے پانچ افراد جاں بحق دو افراد زخمی سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 مسلح حملہ آور بھی مارے گئے جنکی لاشوں کو ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیا پنجگور میں گزشتہ شب مختلف علاقوں میں دھماکوں اور شدید فائرنگ جوابی فائرنگ کے باعث شدید خوف و ہراس پھیل گیا پولیس کے مطابق دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا پولیس کے مطابق خدابادان کے علاقے میں مسلح افراد کی بڑی تعداد نے ارشد بلوچ کے گھر پر حملہ کیا فائرنگ اور دھماکوں کے نتیجے میں امداد ابراہیم، برھان ارشد اور عزیز وزیر جاں بحق ہو گئے۔ حملہ آوروں نے گھر کے تین کمروں کو آگ لگا دی جبکہ مین گیٹ اور چار دیواری کو بھی نقصان پہنچایا۔اسی طرح سراوان خدابادان میں بہرام عرف چالاک کے گھر پر بھی شدید فائرنگ کی گئی، تاہم وہاں کسی قسم کی جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی دریں اثنا پنجگور گرمکان کے علاقے میں شاہد نامی شخص کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عامر نامی شخص جاں بحق جبکہ غفار اور ظفیر احمد زخمی ہو گئے۔ حملہ آوروں نے گھر کو شدید نقصان پہنچایا اور گھر کے سامنے کھڑی تین گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ایک اور واقعے میں گرمکان ہی میں کلیم اللہ کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا، جہاں تین گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور مکان کو نقصان پہنچایا گیا مجموعی طور پر ان واقعات میں پانچ افراد جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ شہر بھر میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا گیا، جس کے باعث تجارتی مراکز اور بیشتر دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک انتہائی کم رہی پولیس کے مطابق سیکورٹی فورسز کی بروقت جوابی کارروائی کے دوران چھ مسلح حملہ آور بھی مارے گئے جنکی لاشوں کو ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیا۔فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پنجگور کے علاقوں خدابادان، گرمکان اور چتکان میں نہتے بلوچوں کے گھروں پر حملہ، ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی بروقت کارروائی، بلوچ نسل کشی کی کوشش ناکام،7دہشت گرد جہنم واصل اور 5 زخمی ہوگئے۔ سیکورٹی فورسز کے ذرائع نے بتایا کہ فتنہ الہندوستان کے 25 سے30 دہشت گردوں نے گذشتہ شب پنجگور کے علاقوں خدابادان، گرمکان اور چتکان میں “ڈیتھ اسکواڈ” کے نام پر چار مقامی بلوچ شہریوں کے گھروں پر بزدلانہ حملے کی کوشش کرتے ہوئے چادر وچاردیواری کے تقدس کوپامال کیا اس کارروائی کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلا کر امن و امان کو سبوتاڑ کرنا اور لوٹ مار کرنا تھا۔اطلاع ملتے ہی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)پنجگور رائفلز کے چاق و چوبند دستے موقع پر پہنچے، متاثرہ علاقوں کا محاصرہ کیا گیا اور کوئیک ریسپانس فورس (QRF) تشکیل دے کر دہشت گردوں کی موثر نشاندہی کی گئی۔چادر و چاردیواری کے تقدس کو محفوظ رکھا گیا اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے نہایت پیشہ وارانہ حکمت عملی اور احتیاط کے ساتھ رات گئے آپریشنز کا آغاز کیا گیا اور بلوچ نسل کشی کی کوشش کو بھرپور طریقے سے ناکام بنا دیا گیا۔ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی بروقت اور موثر کارروائی کے نتیجے میں فرار کی کوشش کے دوران تینوں مقامات پر 7دہشت گرد جہنم واصل،جن میں سے 6دہشت گردوں کی لاشیں قبضے میں لے گئیںجبکه 5 زخمی کیے گئے۔سیکورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے آئی ای ڈی میں استعمال ہونے والا 24 کلوگرام بارودی مواد،جدید غیر ملکی اسلحہ اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا، جن میں ایک مشین گن، ایم 16 رائفلز، آر پی جی-7، ایس پی جی-9 اور یو بی جی ایل شامل ہیں۔اس کے علاوہ نفرت انگیز موادپر مبنی کتابچے اور ایک زیر استعمال زمیاد گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی۔ اس کامیاب کارروائی کے ذریعے پنجگور کو ایک بڑے سانحے سے محفوظ بنا لیا گیا۔سیکورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے چار بلوچ شہریوں کو ایف سی کی جانب سے طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت، مربوط اور بھرپور کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔
کوئٹہ کے علاقے میں پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ ایک اہلکار زخمی ہوگیا ۔ پولیس کے مطابق اتوار کو کوئٹہ کے علاقے نوحصار میں واقعہ پولیس کی چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوگیا ۔واقعہ کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے ،سیکورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمی کو ہسپتال منتقل کردیا جبکہ حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی گئی ۔
کوئٹہ کے علاقے میں دستی بم حملہ کوئی جا نی نقصان نہیں ہوا ہوا پولیس کے مطابق اتوار کی شب نامعلو م مسلح افراد نے اختر آباد کے علاقے میں دستی بم پھینکا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا تاہم واقعہ میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔مزید کاروائی جاری ہے ۔
کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز نے کیمپ پر بموں سے حملہ تین اہلکار زخمی ہوگئے ۔ پویس کے مطابق اتوار کو کوئٹہ کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ویلج ایڈ کے قریب سیکورٹی فورسز نے کیمپ پر نامعلوم حملہ آوروں نے انڈر بیرل گرینڈوں حملہ کردیا جس کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوگئے ۔واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا جبکہ شواہد اکھٹے کرنے کے بعد حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی گئی مزید کاروائی جاری ہے ۔
ضلع ہرنائی کے علاقے میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ۔ پولیس کے مطابق اتوار کو ہرنائی کے علاقے ناکس بازار میں مسلح افراد کی فائرنگ سے شعیب نامی شخص جاں بحق ہوگیا ۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کا تعلق زیارت سے بتایا جارہا ہے مزید کاروائی جاری ہے ۔
ضلع کچھی کے علاقے بھاگ سے ڈکیت گروپ نے ایک بچی اغواء کر لی خاندان سے 50 لاکھ تعاون طلب واقعے کی ایف آئی آر بھی درج وزیراعلی بلوچستان نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔پولیس کے مطابق کچھی بھاگ کے علاقے سے ایک ڈکیت گروپ نے ایک بچی اغوا کرلی واقعہ دو روز قبل بھاگ پولیس تھانے کی حدود پیش آیا پولیس کے مطابق ورثاء کی مدعیت میں مقدمہ درج بھی کر لیا گیا ہے جبکہ ڈکیت گروپ کی جانب سے ورثاء سے مبینہ طورپر 50 لاکھ تعاوان۔بھی طلب کر لیا گیا ہے ۔ واقعے کا وزیر اعلی بلوچستان نے بھی نوٹس لے لیا ہے صوبائی وزیر داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی کے مطابق واقعے کی آئی جی پولیس اور ڈی آئی جی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے مغوی بچی کی فوری با حفاظت بازیابی کو یقینی بنانے اور واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے احکامات جاری کیے گئے ہیں ۔
نصیرآباد فلیجی کے علاقے میں ساوند اور کہیری قبائل ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہوکر جدید اسلحے سے مسلسل فائرنگ ،ٹیوب ویل سولر سسٹم سمیت دیگر مشنیری کو نقصان پہنچا ۔پولیس کے مطابق نصیرآباد کے علاقے تحصیل چھتر کے علاقے فلیجی پولیس تھانہ کی حدود موضع کورار میں مبینہ طورپر اراضیات کے تنازعے پر کہیری اور سبوند قبائل کے درجنوں مسلح افراد نے مورچے قائم کرکے جدید ہتھیاروں سے ایک دوسرے پر شدید فائرنگ کرتے رہے جس سے پورے علاقے میں شدید خوف وحراس پھیل گیا جبکہ اطلاعات کے مطابق فائرنگ سے ایک بورنگ ٹیوب ویل اور نصب لاکھوں روپے کا سولر سسٹم مشنیری کو نقصان پہنچا تاہم دونوں گروپوں کے درمیان کشیدگی بدستور جاری ہے ۔
ڈیرہ مراد جمالی اور صحبت پور ٹریفک حادثات ایک بچہ ہلاک اور دو افراد زخمی ہوگئے ۔پولیس کے مطابق ڈیرہ مراد جمالی شرقی غلام مصطفی سولنگی محلہ میں ٹریکٹر ٹرالی کے نیچے آکر نصیر لہڑی کا دس سالہ بچہ ہلاک ہوگیا جبکہ صحبت پور کے قریب بہادر موڑ پر ڈاٹسن نے مال مویشی چرواہے علی حسن پیچوہا کو ٹکر مار زخمی کر دیا جس کو سول اسپتال صحبت پور منتقل کردیا گیا جبکہ ڈیرہ مراد جمالی میں بازار میں دو موٹر سائیکل ?پس میں ٹکرانے سے امداد علی زخمی ہوگیا جس کو ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی منتقل کردیا گیا ۔
بلوچستان کے ضلع سوراب میں حساس اداروں کی کاروائی تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 300 کلوگرام سے زائد بارودی مواد برآمد کر لیا۔ سیکیورٹی فورسز ذرائع کے مطابق اتوار کو حساس اداروں کو اطلاع ملی تھی کہ شر پسند عناصر نے ضلع سوراب کے علاقے حاجیکا میں قومی شاہراہ پر ایک پل کے نیچے دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا ہے جس پر فورسز نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ایک آئی ڈی کے ساتھ منسلک 8 بیرلز میں نصب 320 کلوگرام سے زائد بارودی مواد برآمد کر کے ناکارہ بنا دیا سیکیورٹی فورسز ذرائع کے مطابق بارودی مواد علاقے میں تخریب کاری کی بڑی کاروائی کی غرض سے نصب کیا گیا تھا جس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ تھا تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں ممکنہ دہشتگردوں کی تلاش شروع کر دی ہے مزید کاروائی جاری ہے
وکنڈی کے قریب ٹریفک حادثے میں تین افراد شدید زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق نوکنڈی کے قریب نوکنڈی لانڈی کے مقام پر ایک تیز رفتار ٹرالر اور کار کے درمیان خطرناک تصادم پیش آیا، جس کے نتیجے میں کار میں سوار تین نوجوان شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کی شناخت اویس احمد (عمر 34 سال)، ضیاء اللہ (عمر 26 سال) اور محمد قاسم (عمر 23 سال) کے نام سے ہوئی ہے جوکہ چاغی کے رہائشی بتائے جاتے ہیں حادثے کی اطلاع ملتے ہی (آئی پی )ایس ایچ او نوکنڈی حاجی غلام دستگیر بڑیچ پولیس اہلکاروں کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو ریسکیو کرکے انڈس ہسپتال منتقل کیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ان کی تشویشناک حالت کے پیش نظر مزید علاج کے لیے فوری طور پر کوئٹہ ریفر کردیا گیا۔پولیس کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
