ہرنائی: مبینہ مارٹر گولہ باری سے معصوم بچہ شہید معصوم بچوں پر گولے برسانا کھلی بربریت ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

ہرنائی (ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 29 مارچ کو شام تقریباً پانچ بجے ضلع ہرنائی کے علاقے زرد آلو کلی کمال کچھ میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک سانحہ نہیں بلکہ ریاستی جبر، کھلی دہشت گردی اور انسانیت کی بدترین توہین ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مولوی عبدالرحیم شموزی کے دو کمسن، معصوم اور نہتے بیٹے، جو اپنے گھر سے روزمرہ کے معمولات کے لیے نکلے تھے، انہیں گھر سے چند قدم کے فاصلے پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کی جانب سے بلااشتعال، اندھا دھند اور مجرمانہ غفلت پر مبنی مارٹر گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سفاکانہ کارروائی کے نتیجے میں ایک معصوم بچہ موقع پر ہی شہید ہو گیا، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے بلکہ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انحراف کرتے ہوئے عوام کے محافظ کے بجائے ان کے لیے خوف، عدم تحفظ اور دہشت کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ پریس ریلیز میں اس واقعے کو بدترین ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ معصوم بچوں پر مارٹر گولے برسانا کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ تصور عمل ہے۔ یہ کھلی بربریت، ظلم کی انتہا اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایف سی کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نام پر نہتے شہریوں، بالخصوص بچوں کو نشانہ بنانا ایک نہایت خطرناک اور تشویشناک رجحان اختیار کر چکا ہے، جو نہ صرف علاقے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اس اندوہناک واقعے کے بعد علاقے کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر اس کھلی دہشت گردی کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ معصوم بچوں کے خون کا حساب لیا جائے اور اس ظلم کے مرتکب عناصر کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اپنے مطالبات میں انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ملوث ایف سی اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمات درج کیے جائیں، تمام ذمہ داران کو فی الفور گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ مزید یہ کہ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف، مناسب مالی معاوضہ اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ ان کے زخموں کا کسی حد تک مداوا ممکن ہو سکے۔ بیان میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ایف سی کو فوری طور پر مذکورہ علاقے سے ہٹایا جائے اور مستقبل میں ایسے انسانیت سوز واقعات کی روک تھام کے لیے شفاف، مؤثر اور عوامی نگرانی پر مبنی اقدامات کیے جائیں تاکہ بے گناہ شہریوں کی جان و مال کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔ آخر میں پارٹی نے دوٹوک انداز میں خبردار کیا کہ اگر اس کھلی بربریت، ظلم اور ریاستی دہشت گردی کا فوری نوٹس لے کر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ پورے صوبے تک وسیع کیا جائے گا، اور اس کے تمام تر نتائج و ذمہ داری متعلقہ حکام اور اداروں پر عائد ہوگی۔
