بلوچستان کی سیاست میں پُرامن خوشگوار تبدیلی کے جھونکے وقت کی ضرورت ہے: امان اللہ کنرانی
مسلم لیگ (ن) اور بلوچستان عوامی پارٹی کا جڑنا صوبے میں امن، ترقی اور روشنی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا: سابق صدر سپریم کورٹ بار نفرت اور لشکر کشی کی سیاست کے بجائے امن کے فاختاؤں اور دلیل کے راستے کو اپنانے کا وقت آ پہنچا ہے: پریس ریلیز پشت پر چھوٹی پارٹیاں بھی کھڑی ہوں گی، سیاسی چارٹر کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یقینی بنائی جائے: سینیٹر امان اللہ کنرانی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) یکم اپریل 2026: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر (سینیٹر)امان اللہ کنرانی نے بدھ یکم اپریل کو بلوچستان کے موجودہ سیاسی حالات و واقعات کے تناظر میں ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کی سیاست میں ایک بار پھر پْرامن خوشگوار تبدیلی کے جھونکے عید نوروز سے شروع ہو کر موسم بہار کی نئی کلیوں کی کھلنے کے موقع پر موجودہ تپش میں تمازت کی نوید ہوسکتی ہیں بلوچستان سمیت دسمبر 1970 کے ملک میں پہلے عام انتخابات میں وفاق و مرکز میں سنگل پارٹی کی حکومت کی تشکیل جبکہ بلوچستان میں رضاکارانہ مخلوط حکومت کی تخلیق صوبے کی باہمی رواداری و قوموں کے درمیان ہم آہنگی کی دیرینہ روایات کی عکاس تھی اسی پختہ سیاسی سوچ کے باعث بلوچستان میں سیاسی حکومت تشکیل پائی مگر فروری 1973 میں بلوچستان کے صوبائی حکومت کی تحلیل کے بعد مولانا مفتی محمود مرحوم نے اظہار یکجہتی کے تحت اپنی صوبائی حکومت رضاکارانہ احتجاجا’’ چھوڑ دی یوں بلوچستان سمیت KP میں ایک وفاقی سیاسی جماعت کی سخت گیر پالیسیوں کا تسلسل پہلے عام انتخابات سے آج تک اسی شدت سے قائم ہے جس سے دونوں صوبوں کے لوگ بجا طور پر تاسف کی نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں اور ہر وقت وہ کسی بہتر سیاسی پناہ گاہ کی تلاش میں سرگرداں رہتے رہے ہیں کبھی مسلم لیگ ن نے انھیں دلاسہ دیا ہے کبھی بلوچستان عوامی پارٹی نے آنسوؤں پونچھنے اور اپنی بے بسی و عاجزی کو عوام کے نذر کرتی رہی ہے کبھی یہ ایک جسم و دو قالب بنتے رہے ہیں کبھی حالات کے تھپیڑے ان کو الگ الگ راہوں پر دھکیل دیتے رہے ہیں سیاسی پارٹیوں میں اْتار چڑھاؤ کی یہ رفتار معمول کی مشقیں جاری رہی ہیں قیام پاکستان سے آج تک کئی پارٹیاں بنیں و باہم مدغم ہوئیں کئی پارٹیاں ایک ہی پارٹی کی بطن سے جنم لیتی رہی ہیں کئی لیڈر بھی ایک ہی آستانے سے فیضیاب ہوتے رہے ہیں اقتدار کی اس دوڑ میں سب سے بہتر وہ جماعت ہے جو بلوچستان سمیت پورے ملک میں جس کے ہاتھ میں آگ کو بْجھانے کیلئے پانی کی بالٹی ہو نہ کہ آگ کی چنگاری پر تیل کی بوتل چھڑکنے اور ہزار سال تک لڑنے کا اعلان کرکے صوبے کے عوام کو ریاست سے دور اور اپنی دکان کی پھیکی پکوان کو دوام دینے کیلئے اپنی حرب کی چرب سے ریاست پر ضرب لگائے جس سے وہ اپنے روزگار و اقتدار کے راستے ہموار کرے ایسے نعرے بازوں کی بجائے امن کے فاختاؤں کیلئے دْعا و دلیل کا راستہ اپنانے کا وقت آن پہنچا ہے موجودہ حالات میں ملک کی سب سے بڑی وفاقی سطح پر مربوط و مضبوط سیاسی پارٹی مسلم لیگ ن کا وجود بلوچستان سمیت کئی اقوام کی شناخت و وسائل سمیت بلوچستان کے معدنی و ساحلی صلاحیت کا تحفظ اور اس کو مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے بروئے کار لانے کے عزم و استدلال کیلئے استقلال کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے ایسے میں بلوچستان عوامی پارٹی کی اْمنگ اور خواہش کے طابع بلوچستان میں ایک واضح و موثر اکثریتی جماعت کی تشکیل وقت کی ضرورت بن گئی ہے اور اس کے اندر صوبے کی افادیت پنہاں ہے جس کی پْشت پر صوبے کی دیگر چھوٹی پارٹیاں بھی خوش دلی کے ساتھ کھڑی ہونے کے متمنی و خوشی محسوس کرتی ہونگی جس سے مکار و عیار و للکار و لشکر کشی کی سیاست کی بجائے صوبے میں بقائے باہمی کے تحت امن و آشتی وہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی آرزو کے تحت امن کو ایک موقع اور دینے کے اصول کے تحت،صوبے میں ایک جامع سیاسی چارٹر کے زرئیعے عوام کو آئینی و قانونی حقوق میسر اور تعمیر و ترقی کے مواقع انکی دہلیز تک پہنچانے کیلئے مطلوبہ قانون سازی کے تحت اختیارات کی تقسیم کو نچلی سطح تک لے جانے کیلئے اقدامات کئے جائیں نہ کہ محض اقتدار کو طول دینے کے لئے خون کی دْکان میں پکوان لگایا جائے اس کے برعکس ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صوبے کو دْکان سمجھ کر اس کو نفرت کا کوڑا دان بنانے کی بجائے صوبے کا گھر سمجھ کر اس دْکان کو مکان بناکر اس میں پھول کے گْلدان کی آبیاری کی جائے اور سوا کروڑ عوام کے اندر اپنائیت کا احساس پروان چڑھایا جائے اجنبیت کا خاتمہ کیا جائے اور یوں یہی مزکورہ دو پارٹیاں صوبے کے معروضی حالات کا ادراک کرتے ہوئے اگر آپس میں جْڑیں گی تو قوی اْمید و تمناہے یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔
