کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں میں قبائلی زمینوں پر ڈی ایچ اے کے ذریعے قبضے کی کوششیں ، عوامی طاقت سے ناکام بنائیں گے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

سرہ خلہ، کلی شبک اور سرہ غڑگی میں بازی قبائل کی اراضی پر پلرز کی تنصیب ناقابلِ قبول ہے، پریس ریلیز ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود ڈی ایچ اے کے ذریعے زمینوں پر قبضہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے: اعلامیہ آبادی کے قریب بھاری ہتھیاروں کا استعمال بند اور فائرنگ رینج کو فوری منتقل کیا جائے: پارٹی کا پُرزور مطالبہ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ): پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں عسکری اداروں کی جانب سے کوئٹہ کے نواحی علاقوں سرہ خلہ، کلی شبک اور سرہ غڑگی میں بازی قبائل کی جدی پشتی اراضی پر پلرز نصب کر کے قبضے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف عوام دشمن ہیں بلکہ علاقے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ پارٹی نے متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس عمل کو بند کریں اور علاقے کے عوام کو اشتعال دلانے اور تصادم کی صورتحال پیدا کرنے سے گریز کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی واضح طور پر اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ بازی قبائل کی زمینوں پر کسی بھی قسم کی ناجائز قبضہ گیری کی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور ایسی تمام کارروائیاں کو عوامی طاقت کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔ پارٹی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گی بلکہ ہر فورم پر اس کے خلاف مؤثر آواز بلند کرے گی۔
پریس ریلیز میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ کچھ عرصہ قبل صوبے کی معزز عدالت، یعنی ہائی کورٹ، اپنے ایک اہم فیصلے میں ڈی ایچ اے کے ذریعے قبائلی اراضی پر قبضے کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے باوجود ایک بار پھر مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے قبائل کی زمینوں پر قبضے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں، جو قانون اور انصاف دونوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سرہ خلہ، کلی شبک اور سرہ غڑگی میں پلرز کی تنصیب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے عوام کو مشتعل کیا جا رہا ہے اور انہیں احتجاج پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پارٹی اس غیر قانونی قبضے کے خلاف دیگر سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور قبائلی عمائدین کے ساتھ رابطے میں ہے، اور ایک مشترکہ لائحہ عمل کے تحت بھرپور، منظم اور مؤثر احتجاج کیا جائے گا۔ پارٹی نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں عوام کی زمینوں پر قبضہ قبول نہیں کیا جائے گا اور ہر سطح پر اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
پریس ریلیز میں ایک اور اہم مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گنجان آباد علاقوں کے درمیان تربیت کے نام پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور غیر انسانی عمل ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف عوام کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں بلکہ اس سے عوام میں خوف و ہراس اور بے چینی کی فضا بھی پیدا ہوتی ہے۔ بیان کے مطابق ایسے اقدامات کے نتیجے میں عوام اور عسکری اداروں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نقصان دہ اور تشویشناک امر ہے۔ آخر میں پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ فائرنگ رینج کے نام پر آبادی کے قریب جاری تمام عسکری سرگرمیوں کا فوری جائزہ لیا جائے اور انہیں انسانی آبادی سے دور منتقل کیا جائے، تاکہ عوام کو ایک پُرامن ماحول میں سکون اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق میسر آ سکے۔ پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد ہر صورت جاری رکھے گی اور کسی بھی ناانصافی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert