پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ عوام کے ساتھ مذاق ہے، 5 سال کے لئے ایف بی آر ٹیکسز اور چیک پوسٹوں پر بھتہ وصولی کا خاتمہ کیا جائے، کوئٹہ چیمبر آف کامرس


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ایوب مریانی اور اختر کاکڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ناقابل برداشت ہے جس نے عوام اور صنعتکاروں کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے بھاری ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا ہے یا اندرونی ٹیکسز قیمتوں میں اضافے کی وجہ بنے ہیں؟ پٹرول کی قیمت 378 اور ڈیزل 521 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے اور ہر لیٹر پر عوام پر 150 سے 200 روپے اضافی بوجھ ڈال کر ان کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ یہ اضافی رقم کہاں جا رہی ہے اور کیا مالی خسارہ پورا کرنے کیلئے پٹرول مہنگا کرنا بطور ذریعہ استعمال کیا جا رہا ہے؟ مہنگا ایندھن، اشیائے ضروریہ اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے سے معیشت متاثر، کاروبار سست روی کا شکار اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا چیمبر آف کامرس مطالبہ کرتا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز میں کمی کر کے قیمتوں کے تعین میں شفافیت لائی جائے اور بلوچستان کیلئے خصوصی ٹیکس ریلیف دیا جائے۔ اس موقع پر اختر کاکڑ نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں 5 سال کے لئے ایف بی آر ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے اور سرکاری ملازمین کو ہر ماہ مفت فراہم کیا جانے والا 3 کروڑ لیٹر پیٹرول فوری بند کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوادر سے کوئٹہ تک ہر چیک پوسٹ پر ایرانی پیٹرول کی ترسیل پر بھتہ وصول کیا جا رہا ہے، ان چیک پوسٹوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ صدر چیمبر آف کامرس ایوب مریانی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ 3 ماہ کے لیے گرین بس سروس عوام کو مفت فراہم کریں، انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ چمن کراچی قومی شاہراہ کی تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال ہو رہا ہے جس کا فوری نوٹس لیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert