بلوچستان اسمبلی میں صوبے میں شراب خانوں کے قیام پر گرما گرم بحث ‘ مولانا ہدایت الرحمٰن نے خود شراب خانے گرانے کی دھمکی دیدی

غیر قانونی شراب خانوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی: وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں گوادر سمیت صوبے میں شراب خانوں کے قیام کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی، جہاں اراکین اسمبلی نے مختلف آرا کا اظہار کرتے ہوئے اس حساس معاملے پر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گوادر میں قائم تمام شراب خانوں کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو شراب خانوں کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر حکومت نے کارروائی نہ کی تو وہ خود جا کر انہیں بند کرائیں گے۔اس موقع پر قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ جتنے شراب خانوں کے لائسنس جاری کیے گئے ہیں، اتنے افراد بھی موجود نہیں جو ان سے فائدہ اٹھائیں، جس سے اس عمل کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔دوسری جانب وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بعض مذاہب میں شراب کے استعمال کی اجازت موجود ہے، تاہم حکومت غیر قانونی شراب خانوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیر اعلی نے مزید کہا کہ کم عمر بچوں کو سگریٹ نوشی کی اجازت نہیں تو وہ شراب کیسے خرید سکتے ہیں، اس لیے اس معاملے پر مثر نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ قانون کی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس میں اراکین نے اس معاملے پر مزید غور و فکر اور مثر قانون سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ صوبے میں سماجی اور قانونی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert