بڑا ایکشن،معروف یوٹیوبر گرفتار،عدالت نے قید کی سزا سنا دی


سیول (قدرت روزنامہ)جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے بدنام زمانہ امریکی یوٹیوبر رمزی خالد اسماعیل کو دنیا میں ’جانی صومالی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کو متنازعہ اور اشتعال انگیز ویڈیوز بنانے پر 6 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ ان کے اس اقدام کے بعد کیا جس سے ملک بھر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 25 سالہ یوٹیوبر نے جنوبی کوریا میں قیام کے دوران کئی ایسی ویڈیوز لائیو سٹریم کیں جن سے کوریائی عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی۔
ان کا سب سے متنازعہ فعل دوسری جنگ عظیم کے دوران جنسی غلامی کا شکار ہونے والی خواتین کی یادگار پر ناچنا اور فحش اشارے کرنا تھا۔ اگرچہ بعد میں اس نے معافی مانگنے کا ڈرامہ کیا لیکن کوریا کے عوام اور قانون نے اسے معاف نہیں کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ یوٹیوبر نے جان بوجھ کر عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور صرف ویوز اور پیسہ کمانے کے لیے سوشل میڈیا پر جنوبی کوریا کے قوانین اور سماجی اقدار کا مذاق اڑایا۔
اس کے خلاف مزید الزامات میں عوامی مقامات پر ہنگامہ برپا کرنا، کھانے کی میزوں پر نوڈلز پھیلانا، بسوں اور سب ویز میں مسافروں کو ہراساں کرنا اور غیر اخلاقی اور جعلی ویڈیوز پھیلانا شامل ہیں۔
استغاثہ نے ملزم کو 3 سال قید کی سزا کی درخواست کی تھی تاہم عدالت نے تمام شواہد اور اس کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 ماہ قید اور فوری نظر بندی کا حکم جاری کیا۔ اسے کمرہ عدالت سے فوری طور پر تحویل میں لے لیا گیا اور ملک سے فرار ہونے کے خطرے کے پیش نظر جیل منتقل کر دیا گیا۔
سماعت کے دوران یوٹیوبر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کیا اور جنوبی کوریا کے لوگوں سے معافی بھی مانگی۔
اس معاملے کو سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کے لیے کیے گئے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert