بلوچستان میں بڑی سیاسی تبدیلی کی آہٹ یا محض دباؤ؟ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی غیر حاضری اور پی پی پی رہنماؤں کی صدر زرداری سے ملاقات کی اندرونی کہانی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کے سینئر صحافی اور نامور تجزیہ نگار سید علی شاہ کی خصوصی اور تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلوچستان کی سیاست کے حوالے سے انتہائی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ صدرِ مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اپنی پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ، جن میں ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور صوبائی وزراء شامل ہیں، کو ہنگامی طور پر طلب کر کے تفصیلی ملاقات کی۔ تاہم، اس انتہائی اہم مشاورتی اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی غیر حاضری نے کئی نئے سوالات اور قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔
سید علی شاہ نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس ملاقات کی اندرونی کہانی، وزیراعلیٰ کی عدم شرکت کی وجوہات، اور پارٹی کے اندر موجود شدید اختلافات سے پردہ اٹھایا ہے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کو اجلاس سے کیوں روکا گیا؟
سید علی شاہ کے مطابق، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اس اہم اجلاس میں شریک نہیں تھے۔ چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے بعض ذرائع پہلے ان کی روانگی کا دعویٰ کر رہے تھے، لیکن حقیقت میں وہ کوئٹہ میں ہی موجود رہے۔ سینئر صحافی نے انکشاف کیا کہ صدر آصف علی زرداری نے دانستہ طور پر وزیراعلیٰ کو اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا تھا تاکہ پارٹی کے دیگر اراکینِ اسمبلی، وزراء اور رہنما وزیراعلیٰ کی موجودگی کے دباؤ کے بغیر کھل کر اپنے تحفظات، شکایات اور خدشات صدرِ مملکت کے سامنے پیش کر سکیں۔
ملاقات میں کون کون شریک تھا؟
اس اہم اجلاس میں پیپلز پارٹی بلوچستان کی تقریباً پوری پارلیمانی قیادت موجود تھی۔ شرکاء میں پارلیمانی لیڈر میر محمد صادق عمرانی، اسفندیار خان کاکڑ، عبیداللہ گورگیج، بخت محمد کاکڑ، مینا مجید، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ظہور بلیدی، سردارزادہ فیصل جمالی، میر لیاقت لہڑی اور ملک شاہ گورگیج سمیت ایک درجن سے زائد رہنما شامل تھے۔ اس کے علاوہ، سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری اور ان کے بھائی نوابزادہ نعمت اللہ زہری کی تصاویر بھی منظر عام پر آئیں، جبکہ صدر زرداری کی سردار یار محمد رند سے بھی ملاقات کی اطلاعات سامنے آئیں۔
پارٹی اراکین کا چارج شیٹ: ترقیاتی فنڈز، تبادلے اور امن و امان کے شکوے
سید علی شاہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ کوئی آئینی یا نظریاتی بحران نہیں بلکہ خالصتاً گورننس، ترقیاتی فنڈز اور تبادلوں (Transfer/Posting) کا جھگڑا ہے۔ اجلاس کے دوران ناراض اراکین کی جانب سے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے گئے:
سندھ طرز کے اختیارات کا مطالبہ: بلوچستان کے پی پی پی اراکین کا سب سے بڑا شکوہ یہ ہے کہ انہیں سندھ حکومت کی طرح مکمل انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آئی جی پولیس، چیف سیکرٹری، اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (SMBR) کی تعیناتیوں میں ان کی مرضی شامل ہو۔
فنڈز کی غیر مساوی تقسیم اور غیر منتخب افراد کی نوازش: نواب ثناء اللہ زہری سمیت دیگر رہنماؤں نے شدید احتجاج کیا کہ مختلف حلقوں، بالخصوص خضدار میں، منتخب نمائندوں کو نظر انداز کر کے غیر منتخب افراد (Notables) کو اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز (PSDP) دیے گئے ہیں، جو کہ حقیقی عوامی نمائندوں کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔
امن و امان کی ابتر صورتحال: ارکان نے صوبے بالخصوص دارالحکومت میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، وکلاء پر حملوں اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
علی حسن زہری کا معاملہ: حال ہی میں پی پی پی رہنما علی حسن زہری کو ڈی سیٹ کیے جانے اور ان سے وزارت واپس لیے جانے پر بھی ایوانِ صدر شدید نالاں دکھائی دیا۔
ایک گروپ کی جانب سے وزیراعلیٰ کا بھرپور دفاع
جہاں ایک طرف شکایات کا طوفان تھا، وہیں سید علی شاہ نے بتایا کہ اجلاس میں صوبائی وزیر ظہور بلیدی اور اسفندیار کاکڑ سمیت بعض رہنماؤں نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا ڈٹ کر دفاع کیا۔ انہوں نے صدر زرداری کو بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ:
موجودہ حکومت کو آئے ہوئے ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے، لہٰذا اتنی جلدی قیادت کی تبدیلی یا کڑی تنقید مناسب نہیں۔
حکومت نے تعلیم، صحت، بینظیر اسکالرشپ پروگرام اور میرٹ پر بھرتیوں کے حوالے سے شاندار کام کیا ہے۔
امن و امان کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ دہائیوں پرانا ہے جسے راتوں رات حل نہیں کیا جا سکتا۔
صدر آصف علی زرداری کا فیصلہ اور آئندہ کا لائحہ عمل
تجزیہ نگار سید علی شاہ کے مطابق، تمام فریقین کو تفصیل سے سننے کے بعد، صدر آصف علی زرداری نے فوری طور پر وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے (Status Quo بدلنے) کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے اراکین کو تسلی دی کہ ان کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے گا۔
صدر زرداری نے اپنے ملٹری سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ چین کے سرکاری دورے سے واپسی پر براہِ راست کوئٹہ اور گوادر کا دورہ کریں گے۔ کوئٹہ میں اپنے ایک سے دو دن کے قیام کے دوران صدرِ مملکت نہ صرف پارلیمانی پارٹی بلکہ عام ورکرز سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ نچلی سطح پر پائے جانے والے احساسِ محرومی کا بھی ازالہ کیا جا سکے۔
کیا بلوچستان نئے سیاسی تجربے کی طرف بڑھ رہا ہے؟
اپنی رپورٹ کے آخر میں سید علی شاہ نے بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک انتہائی اہم سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان کے اس آن ریکارڈ بیان کی یاد دہانی کرائی جس میں کہا گیا تھا کہ “بلوچستان میں حکومتوں کے لیے ڈھائی سالہ فارمولا چلتا ہے”۔
اگرچہ فوری طور پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی تبدیلی کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں اور صدر زرداری نے انہیں وقتی طور پر اعتماد فراہم کر دیا ہے، لیکن پارٹی کے اندرونی شدید اختلافات، فنڈز کی تقسیم پر کھینچا تانی، اور سندھ طرز کی طرزِ حکمرانی کے مطالبات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے لیے آنے والے دن سیاسی طور پر انتہائی کٹھن ثابت ہوں گے۔
