کھانے میں زیادہ نمک کے استعمال کا ایک اور سنگین نقصان دریافت

لاہور(قدرت روزنامہ)زیادہ مقدار میں نمک کے استعمال کو ہائی بلڈ پریشر سے منسلک کیا جاتا ہے مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ اس سے خون کی شریانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ نمک کے استعمال سے مدافعتی نظام اس انداز سے متحرک ہوتا ہے کہ خون کی شریانوں کی عمر میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگتا ہے۔

تحقیق میں ایک ایسے حیاتیاتی ردعمل کو شناخت کیا گیا جو زیادہ نمک والی غذاؤں کا استعمال کرنے پر خون کی شریانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔

اس تحقیق میں چوہوں کو زیادہ نمک والی غذاؤں کا استعمال کرایا گیا۔

زیادہ نمک جزو بدن بنانے سے ان کی خون کی شریانوں کے افعال میں تنزلی کی رفتار نمایاں حد تک بڑھ گئی۔

درحقیقت صرف 4 ہفتوں تک نمک کے زیادہ استعمال سے خون کے بہاؤ کو معمول پر رکھنے والی چھوٹی شریانوں کی خون کو پرسکون رکھنے کی صلاحیت ختم ہوگئی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان شریانوں میں موجود خلیات میں ایسا عمل متحرک ہوا جو شریانوں کی عمر بڑھانے کا باعث بنتا ہے جبکہ ورم بڑھتا ہے جس سے ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے۔

بیشتر افراد کی وہ عام ترین عادت جو بے خوابی کا شکار بناتی ہے

محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ نمک براہ راست شریانوں کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ جسم کا اپنا دفاعی نظام ممکنہ طور پر اس کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اضافی نمک کے استعمال سے مدافعتی نظام متحرک ہوکر ایک مرکب آئی ایل 16 کو خارج کرتا ہے جو خون کی شریانوں کے خلیات کو قبل از وقت بوڑھا ہونے کی ہدایت دیتا ہے۔

جب ان خلیات کی عمر بڑھ جاتی ہے تو یہ نائٹرک آکسائیڈ تیار کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں جو کہ شریانوں کی کشادگی اور لچک کے لیے ضروری گیس ہے۔

محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج محدود ہیں کیونکہ اس میں چوہوں کا مشاہدہ کیا گیا تھا تو انسانوں میں ایسا ہوتا ہے یا نہیں، یہ کہنا ابھی ممکن نہیں۔

الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال سے صحت پر مرتب ہونیوالے 3 سنگین اثرات کا انکشاف

اب وہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اس سے قبل اپریل 2026 میں آسٹریلیا کی ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ زیادہ نمک کے استعمال سے یادداشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ زیادہ نمک سے ان یادوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو ذاتی تجربات اور ماضی کے مخصوص واقعات سے جڑی ہوتی ہیں، جیسے اسکول کا پہلا دن، پہلا دوست وغیرہ۔

اس تحقیق میں 1208 افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی غذائی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔

بعد ازاں نمک کے استعمال سے دماغی صحت پر مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

تحقیق میں دریافت ہوا کہ غذا میں نمک کے استعمال سے یادداشت کی تنزلی کے عمل کی رفتار تیز ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ حیران کن طور پر مردوں میں یہ اثر نمایاں ہوتا ہے جبکہ خواتین میں اس کا مشاہدہ نہیں ہوا۔

WhatsApp
Get Alert