اگر ایک جیل سپرنٹنڈنٹ ہائیکورٹ کے احکامات کو نہ مانے تو آئین وقانون کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟

آج ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کل کسی اور جماعت کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے، جب آئینی راستے بند کرکے ہمیں بند گلی میں دھکیلا جائےگا تو پھر احتجاج کے سوا کیا بچتا ہے؟ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی


پشاور(قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ایک جیل سپرنٹنڈنٹ ہائیکورٹ کے احکامات کو نہ مانے تو آئین وقانون کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ آج ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کل کسی اور جماعت کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقدہ صوبائی (عوامی) اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نظریے کیلئے جیل اور کرپشن میں جیل جانے میں واضح فرق ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوریت کے لیے قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں مگر بعد کے ادوار میں ان کے جانشینوں نے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا، پیپلز پارٹی نے جمہوریت کو کمزور کرنے والی آئینی ترامیم میں بھرپور کردار ادا کیا، 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کو مفلوج بنایا گیا۔
میرے بطور وزیراعلیٰ نامزد ہوتے ہی منظم مہم شروع کی گئی، یہ میری نہیں پورے صوبے کی توہین ہے، اپنے قائد عمران خان سے ملاقات میرا حق ہے، وزیراعظم سے ملاقات کروانے کا کہا تو جواب ملا پوچھ کر بتاؤں گا۔ ہر ادارے کو خطوط لکھے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز نے ملاقات کی اجازت دی مگر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے احکامات مسترد کر دیے۔
ایک جیل سپرنٹنڈنٹ ہائیکورٹ کے احکامات نہ مانے تو آئین و قانون کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے، آج ہمارے ساتھ ہو رہا ہے کل کسی اور جماعت کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو غیرقانونی قید میں صحت سمیت سنگین مسائل کا سامنا ہے، دونوں کو اہل خانہ اور ڈاکٹروں سے ملنے کی اجازت نہیں، آنکھوں کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ عمران خان کو توڑنے کیلئے بشریٰ بی بی کو غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ماضی میں سیاسی قیدیوں کو مکمل سہولیات اور اہل خانہ تک رسائی دی جاتی رہی، سوال یہ ہے کہ احتجاج کے سوا ہمارے پاس کیا راستہ بچتا ہے، ہمارا مطالبہ ہے عمران خان اور ان کی اہلیہ کا علاج بہترین اسپتال میں ذاتی ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں کرایا جائے، پاکستان کی پذیرائی کے لیے 9 اپریل کا جلسہ منسوخ کیا ، ہم پاکستان کیلئے سب کچھ قربان کر رہے ہیں مگر کرپٹ عناصر کو ملک کی پروا نہیں۔
پاکستان کے مفاد میں وفاقی حکومت کے اجلاسوں میں شرکت کی مگر اگلے ہی دن عمران خان کی بہنوں پر تشدد کیا گیا، جب تمام آئینی راستے بند کر دیے جائیں اور ہمیں بند گلی میں دھکیلا جائے تو احتجاج کے سوا کیا راستہ بچتا ہے، حقیقی آزادی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور آئین و جمہوریت کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی تک جدوجہد جاری رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert