دریافت ہونے والا سونا چوری اور پولیس افسران کی کرپشن کا انکشاف

لاہور(قدرت روزنامہ) پنجاب اسمبلی میں میانوالی سے دریافت ہونے والا سونا چوری اور پولیس افسران کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق رکن اسمبلی علی حیدر نیازی نے کہا کہ ضلع میانوالی سے دریافت ہونے والے سونے کے ذخائر کو ایکسیبیٹرز کے ذریعے چوری کیا گیا ہے آج تک سونے میں سے ایک تولہ بھی واگزار نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے علاقے رحمان آباد میں سونا چوری کے لیے سیکڑوں ایکسیبیٹرز لگائے گئے، ایک ایکسیبیٹر سے یومیہ تین تولے سونا چوری ہوتا ہے، ملک کا خزانہ لوٹا جارہا ہے۔

علی حیدر نیازی نے کہا کہ کرپٹ پولیس افسران ملوث نہ ہوں تو کوئی ایک تولہ سونا بھی چوری نہیں کرسکتا، عیسیٰ خیل میں من پسند افسران کی تعیناتی سے گندم اسمگلنگ اور وصولیاں کی گئیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ میرے الزامات غلط ہیں تو تحقیقات کروائی جائیں تاکہ مزید چوری رک سکے، رکن اسمبلی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے سونا چوری روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

ڈپٹی اسپیکر نے سونا چوری کا معاملہ محکمہ معدنیات اور متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے جبکہ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے میانوالی میں چوری پر درج مقدمات کی تفصیلات ایوان میں پیش کردیں۔

انہوں نے کہا کہ میانوالی میں سونا چوری پر اب تک کل 64 مقدمات درج کیے جاچکے ہیں، سال 2024 میں 12 مقدمات درج ہوئے، 77 نامزد ملزمان میں سے 74 کا چالان عدالت میں جمع کروایا، سال 2026 میں 7 مقدمات درج کرکے تمام 16 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ حکومت کو تاحال سونا چوری ہونے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert