بلوچستان بار کونسل وائس چیئرمین کا چیف جسٹس پر اعتراض ‘طوطے کی زبان’ کے مترادف، الیکشن ڈبے کھلیں گے تو جعلی ووٹوں کی حقیقت سامنے آ جائے گی، امان اللہ کنرانی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین جاڑین دشتی کی جانب سے ایک کْھلے خط کی آڑ میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کی ذات پر اعتراضات کو قابل افسوس اور ‘ایک طوطے کی زبان’ کے مانند قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کیس کا موصوف نے اپنے خط میں حوالہ دیا ہے وہی کیس آج سماعت کیلئے مقرر تھا اور فریقین عدالت میں موجود تھے، مگر موصوف مدعا علیہ ہونے کی حیثیت سے احاطے میں موجود ہونے کے باوجود عدالت کی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے۔
امان اللہ کنرانی نے کہا کہ اگر ایک پروفیشنل وکیل ہونے کا دعویٰ کرنے والے خود پیشہ ورانہ طریقے سے عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی بجائے بیان بازی کا سہارا لے رہے ہیں، تو اس سے بلوچستان بار کونسل کا وقار مجروح ہورہا ہے۔ بلوچستان بار صرف عددی اکثریت کا نام نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا آئینہ دار ہے جس کا لیگل پریکٹیشنر ایکٹ 1973 اور رولز 1976 کے اندر فرائض و ذمہ داریوں کا تعین کر دیا گیا ہے۔ ان قانونی کتب سے ہٹ کر ان کی بیان بازی کو بار کونسل کا موقف تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

WhatsApp
Get Alert