پاکستان کی افغان پالیسی کا خمیازہ معصوم شہری بھگت رہے ہیں، ریاست پشتون شناخت مٹانے کی پالیسی ترک کرے، بقا صرف اتحاد میں ہے، محسن داوڑ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیئرمین و سابق رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں اپنے من پسند لوگوں کو اقتدار تک پہنچانے میں کردار ادا کیا، مگر آج صورتحال یہ ہے کہ اسی سرزمین سے ہمارے بچوں اور دیگر معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پشتونوں کے مسائل کی بنیادی وجہ ان کی بار بار تقسیم اور باہمی اختلافات ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام پشتون رہنما وسیع القلبی، بردباری اور اتحاد کا مظاہرہ کریں، بصورتِ دیگر آنے والا وقت پشتونوں کے لیے اس سے بھی زیادہ مشکل اور خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمیں دہشت گردی اور تشدد سے نفرت کرنی چاہیے اور امن و امان کی بحالی، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے تمام قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں تنظیمی حوالے سے منعقدہ کانفرنس اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے مرکزی جنرل سیکرٹری مزمل شاہ، صوبائی صدر احمد جان، صوبائی سیکرٹری انجینئر ایمل خان ناصر، رحمت خان اور نیشنل سٹوڈنٹس موومنٹ کے صوبائی صدر وکیل خان نے بھی خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست اور نظریاتی عوام کی ترجمانی، اصولوں اور جمہوری مزاحمت پر مبنی ہے۔ آج پشتون و دیگر محکوم اقوام کو اس طرح کی سیاست کی ضرورت ہے جو عوامی سیاسی کارکنوں کو درست سمت پر گامزن کرے۔ پاکستان میں جمہوریت کے دعویدار افغانستان میں تاریکی اور پروجیکٹ طالبان کے ہمنوا ہیں، لیکن آج نامعلوم وجوہات کی بنا پر پاکستان کے معصوم لوگوں اور خاص کر بچوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ سامراجی قوتوں نے خلیج سمیت خطے کے تمام وسائل پر مکمل قبضے کے لیے جنگ مسلط کر رکھی ہے، جو ہمارے مفاد میں نہیں ہے اور نہ ہی ایسا لگتا ہے کہ اس سے محکوم اقوام فائدہ اٹھا سکیں گی۔
انہوں نے زور دیا کہ ریاست اور عالمی قوتیں پشتون افغان کی شناخت کو مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اس صورتحال میں پشتون لیڈرز کو اپنے سینے میں لچک پیدا کرنی ہوگی اور ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی پالیسی اپنانی ہوگی ورنہ آنے والا وقت اس سے بھی بدترین ہو سکتا ہے۔ اس پالیسی کے خلاف تمام سیاسی قوتوں کو مل کر جمہوری مزاحمت کرنی ہوگی۔ پاکستان میں پشتونوں کی سیاست، معیشت اور زندگی پر حملے جاری ہیں۔ چمن سے باجوڑ تک پشتونوں کی تجارت و کاروبار پر قدغن لگایا گیا ہے اور خطے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ پارٹی کارکنوں کو چاہیے کہ وہ اپنی جدوجہد کو تیز کریں۔
محسن داوڑ نے مزید کہا کہ اس وقت خواتین کا سیاست میں آنا ناگزیر ہو چکا ہے اور انہیں پچاس فیصد سیاست میں حصہ لینا ہوگا تاکہ وہ ملک اور قوم کے لیے صحیح معنوں میں کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پشتونوں کی مشکلات کی اصل وجہ آپس کی تقسیم در تقسیم ہے۔ جب تک ہم تمام پشتون لیڈر قوم کے لیے نہیں سوچتے، اس وقت تک ہمارے مسائل کم ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس کے اختلافات ختم کر کے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔
