جمعیت کا کارکن محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی سپاہی ہے، مدارس اخلاقی تربیت کے مضبوط قلعے ہیں، قلعہ عبداللہ میں جے یو آئی کے عظیم الشان تربیتی کنونشن سے قائدین کا خطاب

قلعہ عبداللہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام ضلع قلعہ عبداللہ کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان، بامقصد اور روحانی و فکری تربیت سے مزین تربیتی کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں مرکزی و صوبائی قیادت نے شرکت کرتے ہوئے کارکنان کی فکری آبیاری، تنظیمی مضبوطی اور دینی و ملی ذمہ داریوں کے حوالے سے خطاب کیا۔ کنونشن سے جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر حضرت مولانا عبدالواسع، صوبائی امیر خیبر پختونخوا و سینیٹر حضرت مولانا عطاالرحمن، مرکزی ناظمِ مالیات مولانا صلاح الدین ایوبی، صوبائی نائب امیر مفتی فضل غفور اور سینیٹر حاجی عبدالشکور نے خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں اس امر پر زور دیا کہ جمعیت علماء اسلام کا کارکن محض ایک سیاسی کارکن نہیں بلکہ ایک نظریاتی سپاہی، فکری وارث اور دینی مشن کا امین ہوتا ہے، جس کی ذمہ داری محض سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک ہمہ جہت کردار کا حامل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت کی بنیاد عقیدہ، علم، شعور اور عمل کے حسین امتزاج پر قائم ہے، اور یہی وہ امتیاز ہے جو اسے دیگر جماعتوں سے ممتاز بناتا ہے۔رہنماؤں نے مدارس دینیہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے محض تعلیم گاہیں نہیں بلکہ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور روحانی بالیدگی کے مضبوط قلعے ہیں، جہاں علم کو عبادت، اخلاق اور خدمتِ خلق کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہی اداروں نے امت کو ایسے رجالِ کار عطا کیے ہیں جنہوں نے ہر دور میں دین و ملت کی سربلندی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
حضرت مولانا عبدالواسع نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ اصولی سیاست، آئین کی پاسداری، جمہوری تسلسل اور اسلامی تشخص کے تحفظ کو اپنی سیاست کا محور بنایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ نازک حالات میں کارکنان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ نظم و ضبط، صبر و تحمل، برداشت اور اعلیٰ اخلاق کو اپنی شناخت بنائیں، کیونکہ یہی اوصاف کسی بھی تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں۔سینیٹر حضرت مولانا عطاالرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی اصل قوت اس کے تربیت یافتہ اور باشعور کارکنان ہیں، جو ہجوم نہیں بلکہ ایک منظم، مربوط اور مقصدی قافلے کی صورت میں آگے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت کی سیاست ہمیشہ دلیل، حکمت، شائستگی اور جمہوری جدوجہد پر استوار رہی ہے، اور یہی اس کا طرہ امتیاز ہے جسے ہر قیمت پر برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
دیگر مقررین نے بھی اپنے خطابات میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک مؤثر محاذ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، لہٰذا کارکنان کو چاہیے کہ وہ اس پلیٹ فارم کو ذمہ داری، دیانت اور شعور کے ساتھ استعمال کریں، جھوٹ، نفرت انگیزی اور کردار کشی جیسے منفی رجحانات سے اجتناب کریں اور مثبت، مدلل اور مہذب اندازِ گفتگو کو فروغ دے کر جماعت کے مؤقف کو موثر انداز میں اجاگر کریں۔کنونشن میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جمعیت علماء اسلام ملک میں اتحادِ امت، قومی یکجہتی، جمہوری استحکام اور عوامی خدمت کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید منظم، مربوط اور مؤثر بنائے گی اور ہر سطح پر اپنی دینی، ملی اور سیاسی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں ادا کرتی رہے گی۔آخر میں رہنماؤں نے کارکنان کو تلقین کی کہ وہ خود احتسابی، اخلاص، تقویٰ اور نظم و ضبط کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی اصلاح کے ذریعے معاشرے میں ایک مثبت، باوقار اور اصلاحی کردار ادا کریں، تاکہ جمعیت علماء اسلام کا پیغام نہ صرف عام ہو بلکہ مؤثر بھی ثابت ہو۔
