مدارس کو سیل کرنا دینی اداروں کے خلاف منظم اور قابلِ مذمت اقدام ہے، دوہرا معیار ختم کیا جائے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

مدارس کے خلاف اقدامات ناقابلِ قبول ہیں، حکومتی نوٹس فوری واپس لیا جائے، بصورت دیگر عوامی ردعمل شدت اختیار کرے گا


کوئٹہ (ڈیلی قدرت)امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہاکہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کے احکامات پر رجسٹریشن کے نام پر مدارس کو سیل کرنا محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ دینی اداروں کے خلاف ایک منظم اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔ مدارس وہ قلعے ہیں جہاں دینِ اسلام کی تعلیمات محفوظ ہیں اور جہاں سے معاشرے کو اخلاق، شعور اور راہنمائی ملتی ہیمگر افسوس کہ انہی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ صوبے میں دیگر غیرقانونی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں اور ان پر کوئی گرفت دکھائی نہیں دیتی۔انہوں نے کہاکہ یہ حکمرانوں کایہ دوہرامعیار نہ صرف سوالیہ نشان ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف اور برابری کا مظاہرہ کرے نہ کہ کمزور طبقات اور دینی اداروں کو دبانے کی پالیسی اپنائے۔ مدارس کے خلاف یہ اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ہم حکومت سے واضح اور دوٹوک مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر یہ نوٹس واپس لیا جائے، سیل کیے گئے تمام مدارس کو بلا تاخیر کھولا جائے اور آئندہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ بصورتِ دیگر عوامی ردعمل شدت اختیار کرے گا اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی

WhatsApp
Get Alert