بلوچستان اسمبلی : حکومت مدارس کے معاملے پر اعتماد بحال نہ کر سکی، اپوزیشن کا احتجاجاً واک آؤٹ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام سمیت اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کا صوبے میں مدارس کے خلاف کاروائی پر احتجاجاً واک آئوٹ، اسپیکر نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ کو اسمبلی طلب کرلیا ۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈ ر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ بلوچستان میں رجسٹریشن کے نام پرمدارس اورکچھ مساجد کوسیل کیا جارہا ہے،مدارس بند کئے جارہے ہیں اور شراب خانوں کو لائسنس دئیے جارہے ہیںہمیں رجسٹریشن پر اعتراض نہیں مگر انتظامیہ کارویہ ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 2600 مدارس ہیں جن میں 2200 رجسٹرڈ ہیں،400 مدارس بھی ہم رجسٹرڈ سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کرانا چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم مدارس پرآنچ انے نہیں دیں گے،سڑکوں پرنکل کر درس وتدریس کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں قومی اسمبلی میں یہ قانون منظور ہوا ہے بلوچستان میں پہلے قانون پاس پھر کارروائی کرے۔ اس موقع پر اسپیکر مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پرایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کوفوری اسمبلی طلب کرلیا۔
