مدارس معاملے پر بلوچستان حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بلوچستان میں شٹر ڈاؤن، احتجاجی ریلیاں ‘ 10 مئی کو دما دم مست قلندر ہوگا قافلے کوئٹہ کا رخ کرینگے ، مولانا واسع

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور مبینہ بندش کے خلاف دی گئی کال پر بدھ کے روز صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے طول و عرض میں مکمل اور بھرپور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جس کے نتیجے میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ ہڑتال کی حمایت میں تاجر تنظیموں، انجمن تاجران، وکلاء برادری، ٹرانسپورٹرز، طلبہ تنظیموں اور مختلف سماجی و مذہبی حلقوں نے بھی عملی شرکت کی، جس کے باعث صوبہ بھر میں کاروباری، تجارتی اور معاشی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو کر رہ گئیں۔کوئٹہ شہر کے اہم کاروباری مراکز جن میں جناح روڈ، لیاقت بازار، پرنس روڈ، سریاب روڈ، زرغون روڈ، میکانگی روڈ اور دیگر اہم تجارتی علاقے شامل ہیں، مکمل طور پر بند رہے‘ دکانیں، مارکیٹیں، پلازے اور چھوٹے بڑے کاروباری مراکز ویرانی کا منظر پیش کرتے رہے، جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی معمول سے کہیں کم رہا‘ پبلک ٹرانسپورٹ کی جزوی بندش کے باعث شہریوں، خاص طور پر مزدور طبقے، یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔صوبے کے دیگر اضلاع جیسے پشین، قلعہ عبداللہ، مستونگ، خضدار، لورالائی، ژوب، سبی، نوشکی، چمن اور تربت میں بھی ہڑتال کا بھرپور اثر دیکھا گیا، جہاں کاروباری سرگرمیاں بند رہیں اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ بعض علاقوں میں ریلیاں اور جلسے بھی منعقد کیے گئے جن میں بڑی تعداد میں کارکنان اور شہریوں نے شرکت کی۔ہڑتال کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری کو حساس مقامات، شاہراہوں اور تجارتی مراکز پر تعینات کیا گیا تھا۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی چیکنگ سخت کر دی گئی تھی۔ اس دوران بعض مقامات پر کشیدگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سینکڑوں کارکنان اور عہدیداران کو حراست میں لیا۔ پارٹی قیادت نے ان گرفتاریوں کو بلاجواز اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تمام گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔دریں اثناء جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے کوئٹہ میں ایک بڑی اور منظم احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی منان چوک پہنچی۔ ریلی میں شریک کارکنان نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر مدارس کے حق میں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاء نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مدارس کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔منان چوک پر ریلی ایک بڑے احتجاجی جلسے میں تبدیل ہو گئی، جہاں جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع‘ مولانا عبدالرحمن رفیق‘ مولوی صلاح الدین ‘حاجی عین اللہ شمس سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آنے والے بلوچستان اسمبلی اجلاس میں مدارس کے معاملے پر باقاعدہ قرارداد پاس کی جائے گی بصورت دیگر اسی روز بلوچستان بھر سے قافلے کوئٹہ کی طرف روانہ ہوں گے 10مئی کو کوئٹہ میں شدید احتجاج اور دما دمست قلندر ہوگا انہوں نے کہاکہ دینی مدارس اس ملک کے تعلیمی، اخلاقی اور نظریاتی نظام کا ایک اہم ستون ہیں، جو بغیر کسی سرکاری سرپرستی اور مالی معاونت کے لاکھوں طلبہ کو دینی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مدارس نے ہمیشہ محدود وسائل کے باوجود قوم کی دینی، اخلاقی اور نظریاتی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ملک کے نظریاتی تشخص کے تحفظ میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے حکمران طبقہ اور بعض خفیہ قوتیں مدارس کے حوالے سے ہمیشہ شکوک و شبہات کا شکار رہی ہیں اور مختلف ادوار میں انہیں بدنام کرنے، محدود کرنے اور ان پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے رہے ہیں‘رہنماؤں نے حالیہ کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بعض مدارس کو اس بنیاد پر سیل کیا گیا کہ وہاں غیر ملکی طلبہ زیر تعلیم ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر مدارس باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں اور ان میں زیر تعلیم طلبہ کی اکثریت مقامی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب اس الزام میں کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہ آسکے تو مدارس کی انتظامیہ پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن از سر نو ایک نئے نظام، بی سی آر اے (BCRA) کے تحت کروائیں۔ مقررین نے سوال اٹھایا کہ وہ مدارس جو پہلے ہی سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹرڈ ہیں، ان کی رجسٹریشن کو غیر مؤثر قرار دینا آئینی اور قانونی طور پر کس حد تک درست ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے موقع پر حکومت اور متعلقہ حلقوں کے درمیان یہ اتفاق ہوا تھا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ایک متفقہ اور جامع قانون سازی کی جائے گی، اور حکومت نے اس ضمن میں وعدہ کیا تھا کہ متعلقہ بل کو چاروں صوبائی اسمبلیوں سے منظور کروایا جائے گا، تاہم اس وعدے پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ اس کے برعکس مدارس پر دباؤ ڈال کر انہیں بی سی آر اے کے تحت رجسٹرڈ کرنے، انہیں سیل کرنے، اور مختلف انتظامی ہتھکنڈوں کے ذریعے ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات اور چھاپوں کے نام پر مدارس کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف قابل افسوس بلکہ ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ دینی مدارس اس ملک کے نظریاتی وجود کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور جو عناصر اس بنیاد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل ملک اور قوم کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ انتخابات کے دوران ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو انہوں نے صبر و تحمل سے برداشت کیا، تاہم اب جب معاملہ دین، عقیدہ اور قومی نظریے تک پہنچ چکا ہے تو اس پر کسی قسم کی خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ دینی مدارس نہ تو لاوارث ہیں اور نہ ہی انہیں حکومتی احکامات کے تابع بنا کر کھولا یا بند کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا اور مدارس کے خلاف ہر اقدام کا بھرپور اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ صوبائی مجلس شوریٰ کے فیصلوں کی روشنی میں احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور اسے اگلے مرحلے میں داخل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کوئٹہ اس تحریک میں صفِ اول کا کردار ادا کرے گا، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی احتجاجی سرگرمیوں کو مزید منظم کیا جائے گا۔انہوں نے 10 مئی کو ہونے والے لانگ مارچ کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ اس سلسلے میں تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ صوبہ بھر سے قافلوں کی آمد متوقع ہے اور اس احتجاج کو تاریخی بنانے کے لیے بھرپور انتظامات کیے جا رہے ہیں۔آخر میں رہنماؤں نے تاجر برادری، وکلاء ، صحافیوں، سول سوسائٹی اور عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، کیونکہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے اور قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ دینی مدارس کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔جبکہ ہڑتال کے نتیجے میں جہاں ایک طرف کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، وہیں دوسری جانب عام شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ روزمرہ کے کاموں، سرکاری دفاتر میں حاضری، تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں اور دیگر امور میں خلل پڑا، جبکہ مزدور طبقہ مالی مشکلات سے دوچار ہوا۔ مجموعی طور پر ہڑتال پرامن رہی، تاہم گرفتاریوں اور محدود نوعیت کی کشیدگی کے باعث صورتحال میں تناؤ بھی دیکھنے میں آیا۔
