بلوچستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف نیشنل پارٹی کے پاس ہے مصنوعی قیادت نے بلوچستان کو بدامنی، بیروزگاری اور غربت کے سوا کچھ نہ دیا — نیشنل پارٹی


مستونگ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) نیشنل پارٹی مستونگ کا تیسرا ضلع کونسل اجلاس بیاد پارٹی کے بانی رہنما مرحوم جہانگیر بلوچ، شہید میر غلام حسن سرپرہ، شہید میر تنویر جان ملازئی زیر صدارت صوبائی صدر چیرمین اسلم بلوچ ڈسٹرکٹ کونسل ہال مستونگ میں منعقد ہوا۔۔مہمان خاص صوبائی جنرل سیکرٹری چنگیز حئی ایڈوکیٹ تھے۔۔اجلاس کا آغاز ضلعی رابطہ حاجی نذیر بگٹی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔۔اجلاس کے پہلے سیشن میں ضلعی سیکرٹری رپورٹ ضلعی جنرل سیکرٹری سجاد دہوار نے پیش کی۔۔جبکہ تحصیل مستونگ کے صدر رحمت بلوچ، تحصیل ولی خان کے صدر امان اللہ بلوچ، تحصیل دشت کے صدر عبدالکریم اسیر، تحصیل کھڈکوچہ کے صدر عبدالرحمن شاہوانی نے اپنے تحصیل رپورٹس جبکہ لیبر ونگ کے صدر ظفر بلوچ نے اپنے ونگ کا سیکرٹری رپورٹ پیش کیے۔۔۔تمام رپورٹس پر ضلع کونسل کے اراکین نے بحث میں بھرپور حصہ لیا اور تنظیم سازی اور دیگر مسائل کے حوالے سے اپنے تجاویز پیش کیے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر چیرمین اسلم بلوچ، صوبائی جنرل سیکرٹری چنگیز حئی ایڈوکیٹ ، ضلعی صدر میر سکندر ملازئی، صوبائی لیبر سیکرٹری میر احمد بلوچ، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اراکین آغا فاروق شاہ، حاجی نذیر سرپرہ، نثار مشوانی، ضلعی جنرل سیکرٹری سجاد دہوار، سالار جہانگیر بلوچ، حاجی نذیر بگٹی، ظفر اقبال بلوچ، ظفر بلوچ، نذیر نورزئی و دیگر نے بھی خطاب کرتے ہوئے بی ایس او پجار کے مرکزی سینئر وائس چیرمین بابل ملک بلوچ کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں اغواء نما گرفتاری و گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بابل ملک بلوچ ایک پرامن و جمہوری طلباء تنظیم کے مرکزی رہنماء ہیں لیکن ریاست پرامن جمہوری جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکن کو بھی اس نظر سے دیکھ رہی ہے جس سے ریاست مخالف جدوجہد کرنے والوں کو دیکھ رہا ہے۔۔نیشنل پارٹی مرکزی سطح پر بابل ملک بلوچ کی اغوا نما گرفتاری کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ بابل ملک بلوچ کو فوری طور پر منظرعام پر لایا جائے اور ایک طالب علم کی حیثیت سے اسے رہا کیا جائے۔۔مقررین نے کہا کہ باڈر ٹریڈ میں مداخلت نہ کی جائے کیونکہ لاکھوں افراد کا زریعہ معاش بارڈر ٹریڈ سے وابسطہ ہے حکومت اگر نوجوانوں کو روزگار نہیں دے سکتا تو ان سے یہ روزگار نہ چینے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام وفاق سے ایک درجن انڈا یا ایک کلو ٹماٹر بھی نہیں مانگتے۔ بشرطیکہ 1973 کے آئین اور اٹھارویں ترمیم پر من و عن عملدرآمد کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف نیشنل پارٹی کے پاس ہے۔۔کیونکہ نیشنل پارٹی پر امن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔سیاسی ورکر کو مایوس نہیں ہونا چائیے۔کیونکہ عوام کا آسرا صرف سیاسی ورکر اور حقیقی سیاسی جماعت ہے2024 کے جنرل الیکشن سے پہلے بلوچستان میں یہ ماحول تھا کہ حکومت نیشنل پارٹی کی ہوگی لیکن جس طرح سے سازش کے تحت فارم 47 کے زریعے نیشنل پارٹی کے عوامی مینڈیٹ کو چرا کر مصنوعی قیادت کو عوام پر مسلط کیا گیااس کے نتائج بھی بدامنی، بیروزگاری اور غربت کی صورت میں عوام بھگت رہے ہیں۔اجلاس میں آئندہ کا لاء حہ عمل بھی طے کیا گیا۔اجلاس کے آخر میں صوبائی صدر اسلم بلوچ، صوبائی جنرل سیکرٹری چنگیز حئی ایڈوکیٹ نے کونسل کے اراکین میں ممبر شپ فارم بھی تقسیم کیے۔

WhatsApp
Get Alert