سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر سارا بوجھ پرنٹ میڈیا پر ڈال دیا گیا اور کئی پرنٹ میڈیا کے دفاتر بند ہوتے جارہے ہیں ، بڑے اخبارات کے بیورو آفسز بند ہوچکے ہیں ، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیاتوال

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیاتوال سے بلوچستان پرنٹ میڈیا کے چیئرمین سید انور شاہ کی قیادت میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ وفد میں ڈاکٹر ناشناس لہڑی، میر فاروق لانگو، عاطف خان سدوزئی ، سردار شیر زمان پرکانی شامل تھے ۔ جبکہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری عبدالحق ابدال، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان ، صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ اور ضلع کوئٹہ کے اطلاعات سیکرٹری فیصل کاکڑ موجود تھے ۔ وفد نے بتایا کہ بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کو درپیش مسائل اور بحران میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ، آزادی صحافت پر قدغنیں جاری ہیں ، سرکاری اشتہارات کی بندش اور حکومت کی غیرسنجیدگی نے پرنٹ میڈیا کے حقائق کو سوشل میڈیا کے غیر تصدیقی مواد سے نہیں چھپایا جاسکتا ، سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر سارا بوجھ پرنٹ میڈیا پر ڈال دیا گیا اور کئی پرنٹ میڈیا کے دفاتر بند ہوتے جارہے ہیں ، بڑے اخبارات کے بیورو آفسز بند ہوچکے ہیں ، سینکڑوں ملازمین بیروزگار جبکہ اخباری دفاتر کے مالکان کے باعث اپنے ہی سٹاف کو اس وقت تنخواہیں دینے اور اسی طرح پرنٹنگ پریس ، یوٹیلٹی بلز کے اخراجات کی ادائیگی میں مشکلات درپیش ہیں۔ اس موقع پر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ جب صحافیوں کی آواز دبائی جائے، میڈیا پر قدغنیں لگائی جائیں یا پیکا ایکٹ جیسے قوانین کو اظہارِ رائے محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو دراصل یہ آئین میں دی گئی بنیادی آزادیوں پر حملہ ہوتا ہے۔ سنسرشپ، صحافیوں کے خلاف مقدمات، میڈیا ہاؤسز پر دباؤ اور سوشل میڈیا پر قدغنیں ایسے اقدامات ہیں جو جمہوریت کی روح کے منافی ہیں اور صحافت کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہیں۔انہوں نے کہاکہ 8فروری 2024کے انتخابات میں زر وزور کی بنیادپر دھاندلی کرکے عوام کے حقیقی نمائندوں کی جیتی ہوئی نشستیں ان سے چھین کر اس پر بولیاں لگائی گئیں اور اسمبلی تک فارم47کے نمائندوں کو پہنچایا گیا اور آج انہی کے ذریعے متفقہ آئین کو پائمال کیا گیا ہے ۔ عدلیہ کے پر کاٹ دیئے گئے ہیں ، صحافت کا گلا گھونٹا گیا ، اداروں کو مفلو ج بنادیا گیا ۔ عوام کے زمینوں ، وسائل ، معدنیات پر لوٹ مار ،قبضہ گیری جاری ہے ، بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوام کو سرومال کے تحفظ کے سنگین مسئلے سے دوچار کر رکھا ہے ۔ عوام سے تعلیم، صحت، روزگار، پینے کا صاف پانی ، بجلی ، گیس کی سہولتیں چھین لی گئی ہیں ۔ صوبے کے عوام کا واحد ذریعہ معاش جو کہ باڈر ٹریڈ سے منسلک تھا اسے ختم کرکے ہزاروں خاندانوں کو فاقوں پر مجبور کرکے بیروزگاری ، بدامنی میں مزید اضافہ کیا گیا اور یہ ساری ناقص اور عوام دشمن پالیسیاں مسلط فارم47کی حکومت کی ہیں۔ جن کی نااہلی ، ناقص طرز حکمرانی ، نا تجربہ کاری اور کرپشن ، کمیشن، پرسنٹیج کو ترجیحات میں رکھ کر عوامی مفادات کا ترک کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی اپنے محبوب چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں ہمیشہ سے آئین شکنی کے خلاف آواز اور آزادی صحافت کے لیے آواز بلند کی۔آئین کی بالادستی، جمہور کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن کے قیام کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ پارٹی کا مؤقف واضح رہا ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی وفاقی جمہوری ریاست بنایا جائے جہاں تمام قومیتوں کو برابری کے حقوق حاصل ہوں، وسائل پر اختیار ہو اور سیاسی فیصلوں میں حقیقی نمائندگی میسر ہو، عوام کے منتخب پارلیمنٹ سے داخلہ وخارجہ پالیسیاںتشکیل ہو ، تمام ادارے آئین میں دیئے گئے دائرہ اختیار کے پابند ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایک حقیقی جمہوری معاشرے میں میڈیا کو آزاد، خودمختار اور بے خوف ہونا چاہیے تاکہ وہ عوام کی آواز بن سکے اور ریاستی پالیسیوں پر تنقیدی نظر رکھ سکے اور صحافت کے آئینی حق کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں ۔اور صحافیوں کو بھی ملک میں آئین کی تحفظ کے لیے جاری جمہوری جدوجہد کابھر پور ساتھ دینا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں آزادی صحافت کو یقینی بناکرپیکا ایکٹ جیسے متنازع قوانین اور سنسر شپ کا خاتمہ کیا جائے اور صحافیوں کو آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔پارٹی بلوچستان پرنٹ میڈیا کے تمام جائز مطالبات کی حمایت کرتی ہے کہ اور انہیں یہ یقین دہانی دلاتی ہے کہ اس جدوجہد کے ہر مرحلے میں پشتونخواملی عوامی پارٹی ان کے ساتھ صف اول میں شریک ہوں گی۔
