اداکارہ مومنہ اقبال این سی سی آئی اے میں پیش، ہراسانی کے ثبوت تفتیشی افسران کے حوالے کردیئے
تفتیشی حکام کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں اداکارہ سے تفصیلی سوال جواب کا سلسلہ بھی جاری رہا

لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کے خلاف دائر ہراسانی کیس میں معروف اداکارہ مومنہ اقبال اپنے وکیل کے ہمراہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں پیش ہو گئی ہیں، جہاں انہوں نے ملزم کے خلاف تمام تر ڈیجیٹل اور دستاویزی ثبوت تفتیشی حکام کے حوالے کر دیئے۔ اطلاعات کے مطابق اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رکنِ پنجاب اسمبلی پر آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں کے الزامات کے بعد کیس کی باقاعدہ تفتیش کا آغاز ہو گیا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ اداکارہ آج لاہور میں این سی سی آئی اے کے علاقائی دفتر میں اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئی ہیں۔
این سی سی آئی اے کے اندرونی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پیشی کے دوران مومنہ اقبال نے تفتیشی افسران کے سامنے ہراسانی، بلیک میلنگ اور نازیبا پیغامات پر مبنی تمام تر ثبوت اور معلومات پیش کر دیں، تفتیشی حکام کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں اداکارہ سے تفصیلی سوال جواب کا سلسلہ جاری ہے جب کہ کیس کی حساسیت اور عوامی توجہ کے باعث اداکارہ مومنہ اقبال نے کیمروں اور میڈیا کے نمائندوں کا سامنا کرنے سے بچنے کیلئے این سی سی آئی اے دفتر میں داخلے اور روانگی کے لیے عقبی راستہ اختیار کیا۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے تاحال تفتیشی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے، مذکورہ رکنِ اسمبلی کو آج دوپہر 1 بجے پیش ہونے کا باقاعدہ حکم دیا گیا تھا، تاہم مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود وہ این سی سی آئی اے کے دفتر نہیں پہنچے، اگر نامزد ایم پی اے آج تفتیش میں شامل نہیں ہوتے تو ایجنسی کی جانب سے انہیں دوسرا نوٹس جاری کیا جائے گا۔
