لیاری میں خاتون کے قتل کا مقدمہ اس کے پڑوسی پولیس اہلکار کیخلاف درج

25 سالہ بتول کو ماتھے پر گولی مار کر قتل کیا گیا تھا


کراچی (قدرت روزنامہ)لیاری میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی خاتون کے قتل کا مقدمہ اس کے پڑوسی پولیس اہلکار کیخلاف درج کرکے ملزم کو باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق لیاری بکرا پیڑی علامہ اقبال کالونی گلی نمبر 15 میں پیر کی شام کو فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی خاتون 25 سالہ بتول کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر 156/2026 مقتولہ کے والد محمد حنیف کی مدعیت میں مقتولہ کے پڑوسی پولیس کانسٹیبل ملزم آصف کے خلاف قتل کی دفعہ 302 کے تحت درج کر لیا گیا۔
مقتولہ کے والد محمد حنیف نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی دو لڑکیاں اور تین لڑکے ہیں، بتول کی 20 دسمبر 2018 کو حیدرآباد کے رہائشی فرحان سے شادی کردی تھی، مقتولہ کا ایک 4 سال کا بیٹا ہے، تقریباً ڈیڑھ سال قبل فرحان اور بتول میں اختلافات ہوگئے تھے جس پر وہ شوہر کے گھر سے اپنے بیٹے کو لے کر کراچی آگئی اور لیاری میں اپنی بہن کے گھر رہائش اختیار کرلی تھی۔
مقتولہ بتول کی بڑی بہن سونیا نے ایکسپریس کو بتایا کہ پیر کی شام کو سوئی گیس نہ آنے پر بتول اپنے بیٹے کے لیے آلو کے چپس بنانے پڑوسی پولیس اہلکار آصف کے گھر گئی ہوئی تھی کہ اچانک آصف کے 12 سالہ بیٹے نے آکر بتایا کہ ان کی بہن نے خود کو پستول سے گولی مار لی ہے جس پر وہ فوری طور پر وہاں پہنچی تو کچن میں بتول کی خون میں لت پت لاش پڑی تھی۔
لاش کے قریب بتول کا موبائل فون اور پرس بھی پڑا ہوا تھا تاہم وہاں اسے کہیں پستول دکھائی نہیں دیا، بتول کے ماتھے پر گولی لگی تھی جو عقب سے باہر نکل گئی تھی ، بتول کو فوری طور پر سول اسپتال کے ٹراما سینٹر لایا گیا جہاں پہنچ کر ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی تھی۔
پولیس کانسٹیبل آصف کی اہلیہ نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ اس کا شوہر نیپئیر تھانے میں بطور منشی تعینات ہے، واقعے کے وقت وہ گھر پر موجود نہیں تھا، آصف کا پستول فرج کے اوپر رکھا ہوا تھا ، بتول نے اس کے بیٹے سے پستول لے کر خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔
کلاکوٹ تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ او محمد اسرار نے بتایا کہ واقعے کے بعد سے ہی ملزم آصف کو حراست میں لے لیا تھا، مقتولہ کے گھر والوں کا دعویٰ ہے کہ قتل آصف نے کیا ہے جبکہ حالات اور واقعات کو انہتائی باریک بینی سے دیکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مقتول کے ماتھے پر گولی لگی تھی، خودکشی کرنے والا بیشتر کنپٹی پر گولی مارتا ہے جبکہ واقعے کے بعد جائے وقوعہ سے پستول بھی ہٹا لیا گیا جس سے شبہات پیدا ہوئے۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے واپسی کی یقین دہانی پر پستول کلاکوٹ پولیس کے حوالے کردیا، قتل میں آصف یا اور کوئی بھی ملوث ہوسکتا ہے آصف سے تفتیش کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
واضح رہے کہ کلاکوٹ کے علاقے لیاری مرزا آدم خان روڈ علامہ اقبال کالونی گلی نمبر 15 کے قریب گھر سے خاتون کی ماتھے پر گولی لگی خون میں لت پت لاش ملی تھی جس کی اطلاع پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد حاصل کرنے کے بعد خاتون کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کردی۔
ایس ایچ او کلاکوٹ آغا معشوق نے واقعے کے بعد بتایا تھا کہ بتول طلاق یافتہ اور غربت کا شکار تھی، متوفیہ بتول نپیئر تھانے میں تعینات پولیس اہلکار آصف کے پڑوس میں رہتی تھی، جائے وقوعہ سے پولیس اہلکار آصف کا سرکاری پستول اور گولی کا ایک خول بھی ملا ہے۔

WhatsApp
Get Alert