بلوچستان میں مضبوط مخلوط حکومت ہے، ڈھائی ڈھائی سال اقتدار کا کوئی فارمولا اہمیت نہیں رکھتا، محمود خان کی ذاتی لشکر بنانے اور پشتون و بلوچ اقوام کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش تشویشناک ہے، سلیم کھوسہ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ، رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ، صوبائی وزرا میر شعیب نوشیروانی، راحیلہ حمید خان درانی، میر عاصم کرد گیلو، محمد خان لہڑی، نسیم الرحمن ملاخیل، حدیدہ نواز زرک مندوخیل، پارلیمانی سیکرٹری برکت رند نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ نے صوبے کی سیاسی، انتظامی اور سیکورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چمن پھاٹک پر ٹرین پر ہونے والے بم دھماکے کی ہم شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں اپنا بھرپور آئینی کردار ادا کرتے رہیں گے، کیونکہ ہم ایک پرامن اور انصاف پسند معاشرے کے خواہاں ہیں اور تمام پیچیدہ مسائل کا واحد اور مستقل حل صرف قانون کی حکمرانی ہی ہے۔میر سلیم کھوسہ نے چمن میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے حالیہ جلسے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی ایک بڑی سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے قومی اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے تحت حلف بھی اٹھا رکھا ہے، مگر افسوس کہ انہوں نے چمن جلسے میں انتہائی متنازع باتیں کیں۔ انہوں نے جلسے میں ذاتی لشکر بنانے کی بات کی اور پشتون و بلوچ اقوام کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی جو کہ نہایت تشویشناک ہے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستانی شہریوں کو دہری شہریت رکھنے کی بالکل اجازت نہیں ہے، تاہم سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد کو اس وقت بیشتر مسائل کا سامنا ہے جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور یہاں ہر کوئی قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی و آئینی جدوجہد کر رہا ہے۔صوبائی حکومت اور سیاسی امور پر بات کرتے ہوئے میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت مضبوط مخلوط حکومت قائم ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ہمیشہ تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے۔صوبے میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈھائی ڈھائی سال کا کوئی فارمولا اہمیت نہیں رکھتا، اور اگر مستقبل میں ایسا کوئی فارمولا زیر بحث آیا بھی تو اس کا حتمی فیصلہ وفاق نے کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معروضی حالات کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صوبے کے بیشتر علاقوں میں سیکورٹی کے حالات یقیناً سنجیدہ ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہماری اولین توجہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام پر پوری طرح مرکوز ہے۔گزشتہ عید پر بیشتر اراکین اسمبلی نے عوام میں اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنے آبائی علاقوں میں عید منائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام نے ہمیں اپنا قیمتی ووٹ دے کر ایوان میں بھیجا ہے، اس لیے ہم ان کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔بلوچستان پر ماضی میں ہمیشہ یہ الزام لگتا رہا ہے کہ یہاں کرپشن ہوتی ہے، لیکن موجودہ حکومت کرپشن کے جڑ سے خاتمے کے لیے اپنا عملی اور کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ آج بلوچستان میں ماضی کی نسبت بہت بہتر اور مثالی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے اور صوبے کے ہر ضلع میں بلاامتیاز ترقیاتی کام جاری ہیں۔انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہماری پوری کوشش شامل ہے کہ ترقیاتی فنڈز اور وسائل کو تمام اضلاع اور حلقوں میں برابر اور یکساں بنیادوں پر تقسیم کیا جائے تاکہ صوبے کی پسماندگی کو دور کیا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert