پشتون عوام کے حقوق کے لیے کوئٹہ اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا دہشت گردی، غربت، بے روزگاری اور وسائل کی لوٹ مار نے پشتون علاقوں کو متاثر کیا، خوشحال خان کاکڑ


شیرانی (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے ضلع شیرانی کی ضلعی کانفرنس کے کھلے اجلاس (جلسۂ عام) سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشتون عوام اس وقت اپنی سرزمین پر سیاسی، معاشی، سماجی اور قومی سطح پر سنگین ناانصافیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناروا الاٹمنٹس، قومی وسائل کی لوٹ مار، مسلط دہشت گردی، افغانستان میں جاری مداخلت، پشتون بلوچ صوبے میں پشتون عوام کو مسلسل نظرانداز کرنا، بجٹ اور سرکاری ملازمتوں میں محروم رکھنا، شناختی کارڈ اور دیگر بنیادی دستاویزات کے حصول میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، اور ملک کے مختلف شہروں میں پشتونوں کو ہراساں کرنے جیسے اقدامات دراصل ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں، جنہوں نے پشتون قوم کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں پشتون علاقوں میں غربت، بے روزگاری، بدامنی، جبری نقل مکانی اور معاشی بدحالی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب قومی وسائل اور معدنی ذخائر پر قبضے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پشتونخوا وطن کے معدنی وسائل، زمینوں، جنگلات اور قدرتی ذخائر پر سب سے پہلا اور بنیادی حق یہاں کے عوام کا ہے، اور کسی فرد، کمپنی یا ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ مقامی آبادی کی مرضی، مفادات اور حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے ان وسائل کی بندربانٹ کرے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتونخوا وطن معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہے جہاں ریئر ارتھ منرلز (Rare Earth Minerals) سمیت بے شمار قیمتی معدنی ذخائر موجود ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، میزائل سسٹمز، برقی گاڑیوں، موبائل فونز، بیٹریوں اور دفاعی صنعتوں میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہی وسائل کی وجہ سے یہ خطہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور بدقسمتی سے یہاں کے عوام کو ترقی و خوشحالی دینے کے بجائے بدامنی، دہشت گردی اور عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گرد عناصر واقعی خطرہ تھے تو انہیں خطے میں لایا کیوں گیا؟ اور اگر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں تو پھر اس کا خمیازہ عام پشتون عوام کیوں بھگت رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر پشتون علاقوں کو مسلسل نقصان پہنچایا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان متاثر ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے اور نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوا۔ چیئرمین پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ پارٹی تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، وکلاء، اساتذہ، طلبہ، نوجوانوں، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطے کرکے ایک وسیع، مشترکہ اور منظم عوامی تحریک کا آغاز کرے گی۔ اس تحریک کا مقصد پشتون عوام کے قومی، سیاسی، معاشی، آئینی اور جمہوری حقوق کا حصول، وسائل پر حقِ ملکیت کا تحفظ اور جاری ناانصافیوں کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی پانچویں برسی تک مختلف اضلاع میں مشاورتی نشستوں، عوامی اجتماعات، سیمینارز اور رابطہ مہم کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جس کے بعد تمام قومی و جمہوری قوتوں کی مشاورت سے پہلے کوئٹہ اور بعد ازاں اسلام آباد کی جانب ایک عظیم الشان لانگ مارچ کیا جائے گا، تاکہ پشتون عوام کے مسائل اور مطالبات کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ یہ تحریک کسی فرد، جماعت یا مخصوص طبقے کی نہیں بلکہ پورے پشتون وطن اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی تحریک ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پشتون عوام نے ہمیشہ بلوچ قومی تحریک اور بلوچ عوام کے جائز حقوق کی حمایت کی ہے اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی آج بھی بلوچ عوام کے سیاسی، جمہوری اور انسانی حقوق کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ تاہم یہ افسوسناک امر ہے کہ صوبائی سطح پر پشتون علاقوں کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں، فنڈز کی تقسیم اور انتظامی ڈھانچے کی تشکیل میں پشتون علاقوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ “رائزنگ بلوچستان” منصوبے کے لیے مختص خطیر فنڈز میں بھی بیشتر پشتون اضلاع کو شامل نہیں کیا گیا،

حتیٰ کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو بھی نظرانداز کیا گیا، جس سے احساسِ محرومی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چمن، بادینی اور دیگر تجارتی راستوں کی بندش نے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر کیا ہے، جبکہ سندھ، پنجاب، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں بھی پشتون عوام کو امتیازی رویوں اور مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے راولپنڈی میں ایک پشتون نوجوان کے قتل اور خیبر پختونخوا میں شیرانی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اقبال شیرانی اور حضرت گل شیرانی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام واقعات میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شیرانی کے جنگلات پشتون وطن کا ایک قیمتی قدرتی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قدرتی وسائل، جنگلات اور ماحولیات کے تحفظ کے بغیر نہ تو ترقی ممکن ہے اور نہ ہی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل ضلع شیرانی کانفرنس کا بند اجلاس مانڑی خوا میں پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر سے سیکڑوں مندوبین نے شرکت کی۔ اجلاس کے نظامت کے فرائض صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاکڑ نے سرانجام دیے، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حافظ صادق شیرانی نے حاصل کی۔ بعد ازاں شرکاء نے ملی سرود کے احترام میں کھڑے ہو کر قومی وابستگی کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے صدارتی اجلاس میں پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین و سابق سینیٹر رضا محمد رضا، سینئر سیکریٹری سید قادر آغا ایڈووکیٹ، ڈاکٹر بایزید روشان، عبدالقیوم ایڈووکیٹ، احمد خان لونی، علی محمد ترین، غنی فدائی، نیک زیارکش، حاجی نصیب اللہ ناصر، نازک شیرانی، سید اکبر کاکڑ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ ضلع آرگنائزر نازک شیرانی نے تنظیمی کارکردگی رپورٹ پیش کی، جس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مندوبین نے متفقہ طور پر منظوری دی۔ بعد ازاں نئے ضلعی ایگزیکٹو کا انتخاب عمل میں لایا گیا، جبکہ نومنتخب عہدیداروں سے پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے حلف لیا اور انہیں عوامی خدمت، تنظیمی نظم و ضبط، نظریاتی وابستگی اور قومی جدوجہد کے اصولوں پر کاربند رہنے کی تلقین کی۔ کانفرنس اور جلسۂ عام سے رضا محمد رضا، سید قادر آغا ایڈووکیٹ، نصراللہ خان زیرے، عبدالقیوم ایڈووکیٹ، ستار شیرانی ایڈووکیٹ، ملک قائم خان اور حاجی گنڈیر شیرانی نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے پشتون عوام کو درپیش سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل، وسائل کی لوٹ مار، امن و امان کی صورتحال، نوجوانوں کی بے روزگاری اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے موضوعات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا اور عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے قومی حقوق کے حصول کے لیے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم پر متحد ہوں۔ اس موقع پر صادق خان مہڑہ خیل، صحبت خان، سلیمان شیرانی، شاہ بدین، سلیم ایڈووکیٹ، مولاداد، اسد ہمدرد، سپنزر شیرانی، ہمدرد شیرانی، مجید ایثار اور اسرار خان کی قیادت میں 200 سے زائد سیاسی کارکنوں، نوجوانوں، قبائلی عمائدین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی چیئرمین اور دیگر رہنماؤں نے نئے شامل ہونے والے افراد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی شمولیت ضلع شیرانی میں پارٹی کو مزید مضبوط، فعال اور عوامی سطح پر مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ جلسۂ عام کے اختتام پر پشتون عوام کے قومی اتحاد، جمہوری حقوق، وسائل کے تحفظ، امن و استحکام، سیاسی خودمختاری، سماجی انصاف اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی پانچویں برسی ضلع قلعہ سیف اللہ میں بڑے پیمانے پر منعقد کرنے کے اعلان کی بھی توثیق کی گئی۔

WhatsApp
Get Alert