یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کردی، مذاکرات بہترین راستہ قرار

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کایا کالاس نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے مسلسل دونوں ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے پر زور دیا، کیونکہ موجودہ حالات میں فضائی حملوں کے بجائے مذاکرات ہی مسائل کا مؤثر حل ہیں۔

کایا کالاس نے کہا کہ سٹریٹجک مذاکرات کے دوران مختلف اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، انہوں نے اسلام آباد میں پرتپاک استقبال پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون مزید فروغ پائے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اسلام آباد کی ثالثی کی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران تنازع نے دنیا کو توانائی کے سنگین بحران سے دوچار کیا، جس کے باعث پائیدار جنگ بندی اور سفارتی عمل کے تسلسل کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

کایا کالاس نے کہا کہ 2026 کے لیے بنیادی ہدف پاک یورپی یونین تعلقات کو مزید مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے، یہ شراکت داری تجارت اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین علاقائی اور عالمی استحکام کے حوالے سے مشترکہ ترجیحات رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان خطے کی ایک بڑی طاقت ہے اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یورپی قیادت اور کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطہ قابلِ ستائش ہے، خصوصاً پاک بھارت کشیدگی اور امریکہ-ایران تنازع کے دوران دونوں فریق قریبی رابطے میں رہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین سٹریٹجک وژن طویل المدتی شراکت داری کو نئی سمت دے سکتا ہے، جبکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کا تسلسل دونوں فریقوں کے درمیان متحرک اور مستقبل پر مبنی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے حالیہ دور سے مثبت اور بامعنی نتائج برآمد ہوں گے اور دونوں جانب تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش اور مشترکہ مفادات کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یورپی یونین کے کسی اعلیٰ خارجہ پالیسی عہدیدار کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ 7 برس بعد ہو رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ سٹریٹجک مذاکرات کے دوران سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور افغانستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے عناصر کی موجودگی سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی، انہوں نے امریکا ایران بحران کے دوران تعاون پر یورپی یونین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

پاکستان یورپی یونین سٹریٹجک ڈائیلاگ کا یہ 8واں دور سکیورٹی، علاقائی صورتحال، تجارت، اقتصادی تعاون اور کثیرالجہتی روابط سمیت مختلف شعبوں پر مرکوز ہے۔

قبل ازیں کایا کالاس کا وزارتِ خارجہ میں استقبال کیا گیا، وہ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران وہ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقاتیں کریں گی۔ وہ مختلف تھنک ٹینکس اور جامعات کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال کریں گی۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور یورپی یونین تجارت، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یورپی یونین پاکستان کی دوسری بڑی تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی کے ساتھ رسائی حاصل ہے۔

WhatsApp
Get Alert