خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا شدید احتجاج، ملزم کی 12 گھنٹوں میں گرفتاری کا مطالبہ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)سول ہسپتال کوئٹہ میں خاتون پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) نے ہنگامی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور ملزم کی 12 گھنٹوں میں گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
وائی ڈی اے بلوچستان کے رہنما ڈاکٹر حی بلوچ نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہسپتال میں ایک غیر انسانی اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک خاتون پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر کے چہرے اور جسم پر تیزاب پھینکا گیا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ دوپہر تقریباً 12 سے 12:30 بجے کے درمیان پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ ڈاکٹر تقریباً 35 فیصد جھلس چکی ہیں اور یہ واقعہ دراصل ڈاکٹر کو قتل کرنے کی کوشش ہے۔ ڈاکٹر حی بلوچ کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں اس نوعیت کے واقعات آئے روز پیش آ رہے ہیں اور ڈاکٹرز مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ صحت کی انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری صحت کے دفتر میں انتظامی معاملات پر توجہ نہیں دی جا رہی جبکہ محکمہ صحت بدانتظامی اور کرپشن کا شکار ہے۔ انہوں نے سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس)، سیکرٹری صحت اور سیکیورٹی انچارج کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔
ڈاکٹر حی بلوچ نے کہا کہ ہسپتال میں سیکیورٹی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے ڈاکٹرز اور طبی عملہ غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر محفوظ نہیں تو عام اور غریب مریضوں کے علاج کا کیا حال ہوگا۔
اس موقع پر ڈاکٹر عادل خان نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاتون ڈاکٹر سرجری وارڈ میں موجود اپنے کمرے میں مطالعہ کر رہی تھیں۔ اسی دوران مبینہ طور پر لفٹ چلانے والے ایک ملازم نے دروازہ کھٹکھٹایا، اور جیسے ہی ڈاکٹر باہر آئیں تو ملزم نے ان پر تیزاب پھینک دیا اور فرار ہوگیا۔
وائی ڈی اے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ملوث شخص ہسپتال کا لفٹ آپریٹر ہے اور اس کی فوری گرفتاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 12 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار نہ کیا گیا تو سخت احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ سول ہسپتال کوئٹہ میں ایمرجنسی سروسز کے علاوہ تمام طبی خدمات معطل رہیں گی۔ پیرامیڈیکل اسٹاف نے بھی ڈاکٹرز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے سروسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جبکہ سرجری سمیت متعدد شعبوں کی خدمات بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
ڈاکٹرز نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور ہسپتالوں میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

WhatsApp
Get Alert