کراچی کے علاقے منگھوپیر ماربل انڈسٹریل زون میں بجلی چوری کا بڑا نیٹ ورک سرگرم

کراچی(قدرت روزنامہ)کراچی کے علاقے منگھوپیر ماربل انڈسٹریل زون میں بجلی چوری کا بڑا نیٹ ورک سرگرم،کے۔الیکٹرک کے افسران کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو ماہانہ لاکھوں روپے کا چونا لگایا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق ضلع غربی منگھوپیر ماربل انڈسٹریل زون میں بڑے پیمانے پر بجلی چوری کا انکشاف ہوا ہے ۔
ذرائع کے مطابق کے۔الیکٹرک کے افسران اور رضوان مومند ،ظاہر مومندنامی افراد ملکر بجلی چوری کرکے قومی خزانے کو ماہانہ لاکھوں روپے نقصان پہنچارہے ہیں ذرائع نے بتایا کہ رضوان مومند اور ظاہرمومند متعدد ماربل فیکٹریوں کو ماہانہ کی بنیاد پر میٹر فکس کرکے لاکھوں روپے بٹھوررہے ہیں 20لاکھ روپے بل والے فیکٹری سے ماہانہ 7سے 8 لاکھ جبکہ 10 سے 15 لاکھ روپے کے بل والے ماربل فیکٹریوں سے ماہانہ 5سے 6 لاکھ روپے وصول کیے جاتے ہیں جبکہ باقاعدہ ہر ماہ کے۔الیکٹرک کے افسران میٹر کو ریورس کرکے ریکارڈ غائب کردیتے ہیں۔

روزنامہ قدرت نے متعدد ماربل فیکٹریوں کے مالکان سے ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی مگر انہوں نے مؤقف دینے سے انکار کردیا۔ذرائع کے مطابق بجلی چوری میں ملوث مزکورہ افراد پر وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئ اے کی جانب سے کئ بار چھاپے مارے جاچکے ہیں مگر مزکورہ افراد خیبر پختونخواہ یا ملک کے دوسرے شہر فرار ہوجاتے ہیں اور حالات نارمل ہوتے ہی پھرسے یہ گھناؤنا دھندہ شروع کردیتے ہیں۔
اس حوالے سے ترجمان کے۔الیکٹرک نے روزنامہ قدرت سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ کے۔الیکٹرک کی بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف کاروائیاں روزانہ کی بنیادوں پر جاری ہیں۔صرف منگھو پیر میں انڈسٹریل اور رہائشی علاقوں میں پچھلے صرف دو ماہ میں 14 کنڈے ہٹانے کی مہمات کی گئیں جن میں تقریباً 1000 کلو گرام کنڈے ہٹائے گئے۔”
ترجمان کے-الیکٹرک نے مزید کہا، “بجلی چوری نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بڑے حادثات کا سبب بھی ہے۔ بجلی چوری کی روک تھام کے لئے صارفین کے-الیکٹرک کے “اسپیک اپ” پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے بجلی چوری میں ملوث عناصر کی معلومات ثبوت کے ساتھ شیئر کرسکتے ہیں- جبکہ معلومات فراہم کرنے والے کا نام اور شناخت راز میں رکھا جاتا ہے، چوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔”
