بلوچستان کے سنگین مسائل پر فوری توجہ دی جائے، عوام مشکلات کا شکار ہیں: جمال شاہ کاکڑ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے جنرل سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے وفاقی اور صوبائی حکام سے بلوچستان کے سنگین مسائل پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت بدامنی، بے روزگاری، شاہراہوں کی بندش اور مواصلاتی مسائل کا شکار ہے، جس کے باعث عوام، تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز اور زمیندار شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ انہوں نے پشاور سے تعلق رکھنے والی پشتون بچی کے معاملے کو قومی اسمبلی میں اٹھایا تھا، جس کے بعد اس کی فوری بازیابی ممکن ہوئی۔ انہوں نے اس حوالے سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر مملکت طلال چوہدری اور وزیراعلیٰ سندھ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قومی شاہراہیں بند ہیں، انٹرنیٹ سروس متاثر ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ چیمبر آف کامرس، تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز اور زمینداروں کی جانب سے مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے جس کا بنیادی مطالبہ امن و امان کی بحالی ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر ٹرکوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے اور قتل و غارت کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو دشمن عناصر اس سے فائدہ اٹھا کر بلوچ اور پشتون عوام کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون بھائی چارے کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور انہیں کسی صورت ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑایا جا سکتا۔ امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بے روزگاری اور بدامنی کے باعث عوام پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں نجی ایئرلائنز کی جانب سے ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ بھی عوام پر اضافی بوجھ ہے، جہاں 30 ہزار روپے کا ٹکٹ ایک لاکھ روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے، امن و امان بہتر بنایا جائے اور عوام کو روزگار، سفری سہولیات اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert