پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی آزاد کشمیر میں گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال کی مذمت، مذاکرات کا مطالبہ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے مرکزی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں آزاد جموں و کشمیر میں عوامی احتجاج کے دوران سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مبینہ طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور جبر کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے بنیادی، آئینی، جمہوری اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والے پرامن شہریوں کو تشدد، گرفتاریوں اور طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔
پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ عوامی مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات، افہام و تفہیم، سیاسی بصیرت اور جمہوری عمل میں پوشیدہ ہے۔ بیان میں حالیہ واقعات، ہلاکتوں، زخمیوں اور گرفتاریوں کی فوری، آزاد، شفاف اور غیر جانبدار عدالتی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
پریس ریلیز کے مطابق کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو عوامی حمایت حاصل ہے اور اس کی جدوجہد کو عوام کے معاشی، سماجی، آئینی اور جمہوری حقوق کے حصول کی پرامن تحریک قرار دیا گیا۔ پارٹی نے کہا کہ ایسے حالات میں طاقت کے استعمال کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات تسلیم کیے ہیں تو ان پر عملدرآمد میں تاخیر یا انحراف عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور سیاسی بحران کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ ایک اہم سیاسی اور تاریخی معاملہ ہے، جس سے متعلق فیصلے عوامی رائے، جمہوری اصولوں اور سیاسی مشاورت کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔
پارٹی نے سابقہ فاٹا، گلگت بلتستان اور دیگر حساس علاقوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے بعض فیصلوں کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، لہٰذا مستقبل میں تمام اہم معاملات عوامی مشاورت اور آئینی تقاضوں کے مطابق حل کیے جائیں۔
بیان کے اختتام پر مطالبہ کیا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا ماحول پیدا کیا جائے، گرفتار سیاسی و عوامی رہنماؤں اور کارکنوں کو قانونی تقاضوں کے مطابق ریلیف فراہم کیا جائے اور عوامی ایکشن کمیٹی سمیت تمام نمائندہ قوتوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کیے جائیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جمہوری حقوق، آئینی آزادیوں، انسانی وقار، سیاسی انصاف اور عوامی حقِ رائے دہی کے فروغ کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
