بلوچستان کے مسائل کا حل تشدد نہیں، مذاکرات اور انصاف میں ہے، مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ


گوادر(قدرت روزنامہ) جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں بدامنی عروج پر ہے اور بلوچستان کو محاذ آرائی اور تشدد کے ماحول کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
گوادر اور کراچی میں مختلف وفود سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے بجائے ایسے حالات پیدا کیے گئے ہیں جن سے جمہوریت اور سیاست بدنام ہو رہی ہے، جبکہ نوجوان مایوسی کے باعث پہاڑوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے واضح کیا کہ مسلح جدوجہد، تشدد اور طاقت کا راستہ بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہوں کی بندش، مسافر اور مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنا، عوام کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنا اور خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا عوامی مفاد کے خلاف اقدامات ہیں، جن سے عام شہریوں، تاجروں، مزدوروں اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ پرامن، جمہوری اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور صوبے کے مسائل کا حل مذاکرات، افہام و تفہیم، انصاف اور عوامی حقوق کی فراہمی میں پوشیدہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور صنعتی منصوبوں کے قیام کے بجائے چیک پوسٹوں اور تھانوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے بلوچستان کی ترقی کا عمل متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل، نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی محرومیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے سرکاری ملازمین، اساتذہ، ڈاکٹرز اور گرینڈ الائنس سے وابستہ دیگر ملازمین کے جائز مطالبات کی فوری منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے ان کے مسائل کا قابلِ قبول حل نکالے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے حقوق، وسائل پر مقامی لوگوں کے حق، تعلیم، صحت اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

WhatsApp
Get Alert