پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے وفاقی بجٹ 2026-27 مسترد کر دیا، عوام دشمن قرار

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ نے وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2026-27 کو عوام دشمن، غیر آئینی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
پارٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بجٹ الفاظ اور اعداد و شمار کا ایک پیچیدہ گورکھ دھندا ہے جو عوامی مفادات کے خلاف ہے۔ بیان کے مطابق بجٹ قوانین اور بجٹ مینول میں بجٹ خسارے کی حد 11 فیصد مقرر ہے، جبکہ موجودہ بجٹ میں خسارہ 29 فیصد سے زائد دکھایا گیا ہے، جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ بجٹ کا مجموعی حجم 18,771 ارب روپے ہے جبکہ مالی سال 2026 کی متوقع آمدنی 11,751 ارب روپے ہے، جس کے نتیجے میں 7,020 ارب روپے کا خسارہ سامنے آتا ہے۔ پارٹی کے مطابق 8,054 ارب روپے قرضوں کے سود اور تقریباً 3,000 ارب روپے دفاعی اخراجات پر خرچ ہوں گے، جس سے قومی آمدنی کا بڑا حصہ انہی دو مدات میں صرف ہو جائے گا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ باقی حکومتی امور چلانے کے لیے مزید قرضے لینا پڑیں گے، اس لیے معاشی بہتری کے حکومتی دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے وفاقی بجٹ میں صوبائی محکموں کے لیے فنڈز مختص کرنے کو بھی آئین پاکستان کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پارٹی کے مطابق تعلیم، صحت، صنعت، آبپاشی، آئی ٹی، لائیو اسٹاک اور زراعت جیسے شعبے آئینی طور پر صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، لہٰذا ان کے لیے وفاقی سطح پر فنڈز مختص کرنا آئینی اصولوں کے منافی ہے۔
بیان میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عوامی اثاثوں کے استعمال، فروخت اور الاٹمنٹ سے متعلق بعض اقدامات غیر آئینی ہیں اور انہیں بجٹ کا حصہ بنانا قابل قبول نہیں۔
پارٹی نے حکومت کی نجکاری پالیسی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں اور عوامی اثاثوں کی فروخت قومی مفادات کے خلاف ہے۔ پریس ریلیز میں پی آئی اے کی ممکنہ نجکاری کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ قومی اثاثوں کی کم قیمت پر فروخت عوامی ملکیت کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ موجودہ بجٹ سے ملک کی معاشی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور حکومت کی معاشی پالیسیوں سے عوامی مسائل کے حل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ پارٹی نے سیاسی و جمہوری قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی مفادات اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
