اگر میں جعلی ووٹوں سے ایم این اے بنا ہوں تو مجھ پر اور میرے بچوں پر لعنت ہو

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے کہا ہے کہ اگر میں جعلی ووٹوں سے ایم این اے بنا ہوں تو مجھ پر اور میرے بچوں پر لعنت ہو، اب جو بھی حکومتی بینچ سے تقریر کرے وہ یہ جملہ دہرائے۔ انہوں نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں ان لوگوں کو بولنے کا موقع ملنا چاہئے جو ووٹ سے اسمبلی میں آئے ہیں، 17 ممبران الیکشن جیت کر آئے ہیں اسی تناسب سے ان کو بولنے کا موقع دیں، اور جس تناسب سے ہم الیکشن جیت کر آئے ہیں ہمیں اسی تناسب سے موقع دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ میں 2013 ، 18 اور 24 میں ایم این اے بنا اگر میں جعلی ووٹوں سے ایم این اے بنا ہوں، اگر میں کسی کا حق کھا کر اسمبلی میں آیا ہوں تو مجھ پر اور میرے بچوں پر لعنت۔
اب جو بھی حکومتی بینچ سے تقریر کرے وہ یہ جملہ دہرائے ۔ مزید برآں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء اسد قیصر نے کہا ہے کہ خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا 8 فروری اور جی بی الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دے کر الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل خواجہ آصف نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔
میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔
ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔
