بلوچستان کے حقوق کے لیے آخری حد تک جائیں گے، لا اینڈ آرڈر نہیں بلکہ بے روزگاری بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ‘میر سرفراز بگٹی
وفاق کے سامنے مضبوط احتجاج ریکارڈ کرایا، بجٹ اجلاس میں نہ جانے کا فیصلہ کر چکے تھے آخری لمحات میں ہمارا ساتھ دینے پر وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور بلاول بھٹو کے شکر گزار ہیں پورا ایوان اور بلوچستان کے عوام مقامی میڈیا کے ساتھ ہیں، صوبے میں بندشیں لگانے والوں کو نیشنل میڈیا نہیں مانا جائے گا صوبے کے 60 فیصد سے زائد عوام بے روزگاری کو سب سے بڑی مشکل سمجھتے ہیں بندشوں کے خلاف صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایک اہم سروے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایک حالیہ ا نڈپینڈنٹ سروے کے مطابق، بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ لا اینڈ آرڈر امن و امان نہیں ہے گو کہ صوبے میں امن و امان کی سچویشن مثالی یا ٹھیک نہیں ہے اور ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے بجائے اسے ٹھیک کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں، جس کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز دن رات کوشاں ہیں، لیکن سروے کے ذریعے بلوچستان کے لوگوں نے جس سب سے بڑے مسئلے کی نشاندہی کی ہے وہ بے روزگاری ہے صوبے کے 60 فیصد سے زائد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کا سب سے بڑا اور اصل مسئلہ بے روزگاری ہے انہوں نے زور دیا کہ اس بڑے چیلنج سے نمٹنے اور بے روزگاری کو کم کرنے کے لیے فیڈرل گورنمنٹ، پروونشل گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹرسب کو مل کر سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں ایک طرف ہم بے روزگاری ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہم روزگار کو بند کرنے کی طرف جا رہے ہیں، یہ انتہائی ظلم ہے اور ہم یہ ظلم کبھی ہونے نہیں دیں گے میری ذات اور یہ معزز ایوان میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑا ہے، اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس ایوان کا ایک بھی رکن ایسا نہیں ہوگا جو اس بات پر قائل نہ ہو کہ ہم اس مشکل گھڑی میں آپ کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہیں۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر بیوروز بند کرنے کا یہ سلسلہ نہ رکا تو وہ اس اہم اور سنگین مسئلے پر خود وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے بات کریں گے تاکہ صحافیوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا جا سکے۔ یہ ادارے صرف اور صرف کمرشلائزڈ ہو چکے ہیں اور بزنس نہ ہونے کا بہانہ بنا کر بیوروز بند کر رہے ہیں اگر یہ چینلز کوئٹہ اور بلوچستان میں اپنے بیورو دفاتر بند کرتے ہیں تو پھر انہیں ‘نیشنل میڈیا’ کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے، انہیں نیشنل میڈیا کہنا بند کیا جائے۔ اگر یہ واقعی نیشنل میڈیا ہے تو انہیں کوئٹہ سمیت تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں اپنے بیوروز کھلے رکھنے پڑیں گے۔اپنے خطاب میں وزیراعلی نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کو ان کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو وعدہ کیا تھا اسے نبھائیں اور اس پر پورا اتریں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ‘سنو ٹی وی’ بند ہوا ہے اور اس سے پہلے بھی دو چار چینلز بند ہو چکے ہیں، ان تمام چینلز کو دوبارہ کھلنا چاہیے۔ “محسن نقوی صاحب! آپ میرے بھائی اور دوست ہیں، جب بھی بلوچستان درد میں ہوا آپ نے سب سے پہلے یہاں قدم رکھا جس پر ہم شکر گزار ہیں، لیکن آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ اپنے چینل کا کوئٹہ بیورو کھولیں گے اس اسمبلی سیشن کے ختم ہونے سے پہلے کم از کم محسن نقوی کے اپنے چینل کا بیورو آج ہی کھل جانا چاہیے، اگر وہ بات نہیں سن رہے تو وہ انہیں ابھی واٹس ایپ پر میسج بھی کر دیں گے، کیونکہ بلوچستان کے حقوق اور روزگار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ تمام معزز ارکانِ اسمبلی کی طرف سے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم بلوچستان کے میڈیا کے ساتھ تھے، میڈیا کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ میڈیا کے ساتھ رہیں گے۔ اگر آپ بلوچستان میں بیوروز بند کرنے جیسی حرکتیں کریں گے تو کم سے کم بلوچستان کے لوگ آپ کو ‘نیشنل میڈیا’ تسلیم نہیں کریں گے اور ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے۔ حکومت، اپوزیشن اور بلوچستان کے عوام صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر فورم پر ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔بجٹ کی تیاریوں اور وفاق سے صوبے کے حقوق کے حصول کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ بجٹ کے معاملے پر جو کچھ ہوا ہے اس سے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (P&D)، چیف سیکرٹری اور شاید اپوزیشن کے بھی کچھ دوست واقف ہیں کہ ہم بلوچستان کے حقوق کے لیے کتنی مضبوطی اور پختگی کے ساتھ کھڑے ہوئے اگر ہم وہاں ڈٹ کر کھڑے نہ ہوتے اور پرانی صورتحال برقرار رہتی، تو جو کچھ پنجاب اور سندھ کے ساتھ ہوا وہی ہمارے ساتھ بھی ہوتا اور ہمارے پاس ترقیاتی کاموں کے لیے محض 9 ارب روپے بچ رہے تھے۔ ہم نے بلوچستان کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے وفاق کے سامنے اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، یہاں تک کہ ہم نے یہ فیصلہ بھی کر لیا تھا کہ اگر ہمارے حقوق تسلیم نہ کیے گئے تو ہم بجٹ اجلاس میں ہی نہیں جائیں گے۔ میں اپنے بجٹ خطاب کے آخر میں یہ تمام حقائق تفصیل کے ساتھ ایوان کے سامنے رکھوں گا بلوچستان کا ساتھ دینے اور صوبے کے موقف کو تسلیم کرنے پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ ہم آئندہ بھی بلوچستان کے حقوق کے لیے انتہائی مضبوطی مگر شائستگی کے ساتھ بات کرتے رہیں گے اور مجھے پورا یقین ہے کہ ہماری آواز ہمیشہ سنی جائے گی۔
