قطر کی پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف، امریکا ایران معاہدے کا خیرمقدم

قطر (قدرت روزنامہ)قطر نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے امریکا ایران معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا ایران معاہدہ دشمنی کے خاتمے اور آبنائےہرمز میں جہازرانی کی آزادی یقینی بناتا ہے معاہدہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کےلیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
قطر نے تمام فریقین پر نیک نیتی اور باہمی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیتے امریکا ایران معاہدے کو انجام تک پہنچانے میں پاکستان کے مخلصانہ کردار کو سراہا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ قطر علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کو بڑھانے کی تمام کوششوں کا ساتھ دیتا رہے گا بین الاقوامی قوانین کے مطابق پرامن طریقوں سے تمام مسائل کا پائیدار حل چاہتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر بطور ثالث باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔
اس تاریخی دستاویز پر امریکی صدر اور ایرانی صدر کے دستخط بھی موجود ہیں، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں۔
اس سے قبل امریکا اور ایران نے تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے ، امریکی حکام نے ایم او یو کا متن میڈیا نمائندوں کےسامنے پڑھ کر سنایا۔
امریکی حکام کی جانب سے میڈیا کے سامنے پڑھے گئے متن میں کہا گیا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت کا پہلا اور سب سے اہم نکتہ تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوری اور مستقل جنگ بندی ہے، فریقین نے آئندہ جنگ یا ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز، لبنان کی خودمختاری کے احترام اور ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا عزم ظاہر کیا ہے۔
معاہدے کے تحت دستخط کے فوری بعد امریکا، ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا جبکہ حتمی معاہدے کے بعد امریکی افواج کو بھی ایران کے اطراف سے ہٹا لیا جائے گا۔
ایران بارودی سرنگوں اور دیگر رکاوٹیں ہٹانے کے بعد 30 دن کے اندر بحری ٹریفک مکمل طور پر بحال کرے گا اور اگلے 60 دن کے لیے خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کے سفر کو محفوظ بنائے گا۔
