خواجہ آصف جیسے بیانات اشتعال کو بڑھائیں گے


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف جیسے بیانات اشتعال کو بڑھائیں گے، اپوزیشن کو مجبور نہ کریں، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے اور آج ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم گونگے نہیں ہیں اور گونگے شیطان نہیں بنیں گے، ہم خاموش نہیں رہیں گے ہم بات کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے حکومت، عسکری قیادت کے سیاسی کردار اور اسپیکر قومی اسمبلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم ان کے اس خطاب کے دوران ہی سرکاری ٹی وی کے چینل پی ٹی وی پارلیمنٹ اور نیشنل اسمبلی کی لائیو نشریات کو اچانک بند کر دیا گیا۔
اس سے پہلے مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب اسپیکر! کل آپ بھی ایوان میں ضرورت سے زیادہ بولے، اسپیکر صاحب کل آپ نے جو جذباتی گفتگو کی تھی، وہ آپ کے منصب کے شایانِ شان نہیں تھی اور آپ کو ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہئے تھی۔
حکومتی بینچوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امیر جے یو آئی ف نے ماضی کے سیاسی جلسوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب میاں نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوتے تھے، تو کیا وہ جلسوں میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے؟ کیا نواز شریف خود فوج کو ‘محکمہ زراعت’ نہیں کہا کرتے تھے؟ موجودہ حکومت عالمی سطح پر تو شاید نیک نامی کما رہی ہو، لیکن پاکستان کے اندر وہ اپنی نیک نامی پوری طرح گنوا چکی ہے، پاکستان کی فوج کو سرحدوں کی حفاظت پر ہونا چاہئے، لیکن افسوس کہ اسے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا جس کے تحت انہوں نے مظفرآباد کی طرف اپنا طے شدہ مارچ مؤخر کیا، اس کے ساتھ ہی مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے شکوہ بھی کیا کہ کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے، لیکن آج ہم خود اپنے کشمیر میں کیا کر رہے ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خواجہ آصف نے ایوان میں جو باتیں کی ہیں، وہ انہیں بطور وزیرِ دفاع بالکل نہیں کرنی چاہئیے تھیں، حکومت کی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے، آپ نے لڑائی کا ٹاسک خواجہ آصف کو اور صلح کا کام اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا قومی اسمبلی میں یہ خطاب ابھی جاری ہی تھا کہ اچانک ‘پی ٹی وی پارلیمنٹ’ پر اس خطاب کی نشریات کو روک دیا گیا اور نیشنل اسمبلی کی آفیشل لائیو اسٹریمنگ بھی بند کر دی گئی، ایوان کے اندر موجود اسمبلی کی اسکرینوں اور اسپیکر پر بھی مولانا فضل الرحمان کی آواز کو بند کر دیا گیا، جس پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔

WhatsApp
Get Alert