فرانسیسی خاتون جس شوہر کا فرانس میں سہارا بنی، اسی نے پاکستان لا کر قیدی بنا دیا
محبت کے بعد ایفل ٹاور سے باڑہ کے کچے مکان تک ہجرت کے نتیجے میں شروع ہونے والی 12 سالہ قید سے خاتون کو رہائی مل گئی

پشاور(قدرت روزنامہ)فرانسیسی خاتون جس شوہر کا فرانس میں سہارا بنی، اسی نے پاکستان لا کر قیدی بنا دیا، خاتون کو محبت کے ہجرت کے نتیجے میں شروع ہونے والی 12 سالہ قید سے رہائی مل گئی۔ تفصیلات کے مطابق خاتون کے پاکستان آنے اور اس کے بعد بدلنے والے حالات کے جبر کی نشاندہی کرتی ایک ایسی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں نظر آنے والا فرق صرف دو مختلف زمانوں کا نہیں بلکہ ایک ہنستی کھیلتی زندگی کے اجڑنے اور ایک تاریک قید خانے میں بدلنے کی داستان ہے، دائیں جانب پیرس کے ایفل ٹاور کے سائے تلے کھڑی ایک پُرکشش، پُراعتماد فرانسیسی دوشیزہ ہے، جبکہ بائیں جانب اسی عورت کا حال ہے جو پاکستان کے ضلع خیبر کے ایک کچے مکان سے 12 سالہ بدترین تشدد اور قید کے بعد بازیاب کروائی گئی ہے، محبت کے نام پر ہجرت کرنے والی اس بدقسمت خاتون کا نام سلوی یاسمینہ ہے۔
بتایا گیا ہے کہ 54 سالہ فرانسیسی خاتون سلوی یاسمینہ کبھی فرانس میں اپنے پاکستانی شوہر کا مضبوط سہارا تھیں، انہوں نے اپنے جیون ساتھی کی ہر ممکن مالی مدد کی، خاندان کو سنبھالا اور محبت پر اندھا بھروسہ کرتے ہوئے 2014ء میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان کے علاقے باڑہ ضلع خیبر منتقل ہو گئیں، لیکن جیسے ہی انہوں نے پاکستان کی دھرتی پر قدم رکھا، ان کی زندگی ایک ایسے بھیانک قید خانے میں بدل گئی جہاں سے چیخیں بھی باہر نہیں جا سکتی تھیں۔
سلوی یاسمینہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 برسوں سے گھر سے باہر نکلنے کی ذرا سی بھی اجازت نہیں تھی، کسی سے بات کرنے، ملنے یا فون استعمال کرنے تک کی آزادی ان سے چھین لی گئی تھی، وہ کہتی ہیں کہ ظلم کی انتہا صرف ان تک محدود نہیں تھی، بلکہ ان کے معصوم بچوں اور بالخصوص بیٹی کو بھی روزانہ شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ معلوم ہوا ہے کہ کئی برس اسی خاموشی اور سسکتے ہوئے گزر گئے، بالاخر ایک دن ان کے کم عمر بیٹے نے اپنی اور اپنی ماں کی زندگی بدلنے کی ہمت کی، وہ کسی طرح ظالم باپ کی نظروں سے بچ کر گھر سے بھاگا اور پولیس تک اپنی ماں کی بے گناہی اور قید کی خبر پہنچائی، جس کے بعد اس خاندان کے لیے آزادی کی نئی صبح طلوع ہوئی۔
سی سی پی او میاں سعید نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور خیبر پولیس نے باڑہ میں ایک خستہ حال کچے مکان پر اچانک چھاپہ مارا، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھریلو تشدد کا شکار غیر ملکی خاتون کو ان کے چاروں بچوں سمیت بحفاظت بازیاب کروا لیا اور موقع پر ہی ظالم شوہر کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، بازیابی کے بعد فرانسیسی خاتون کو ان کے بچوں سمیت ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا گیا۔
برسوں کے اس بھیانک ڈراؤنے خواب سے نکلنے کے بعد سلوی یاسمینہ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ اب اپنے بچوں کے ساتھ واپس اپنے وطن فرانس جانا چاہتی ہیں، تاکہ وہ وہاں ایک پُرامن اور نئی زندگی کا آغاز کرسکیں، اس ضمن میں پولیس حکام نے بتایا ہے کہ فارن آفس یعنی وزارتِ خارجہ کی وساطت سے فرانسیسی سفارتخانے کو ایک سرکاری مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی باوقار وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
