صوبائی حکومت اور مسلح تنظیمیں طاقت کی استعمال سے گریز کریں اور ’مذاکرات کی راہ اپنائیں مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے؛ صوبائی وزیر میر صادق عمرانی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ کا حل مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔غیر ملکی ادارے کو انٹرویو میں میر صادق عمرانی نے کہا کہ صوبے کی قوم پرست جماعتیں مسائل اور وسائل کی بات کر رہی ہیں۔
ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ اس صوبے میں جو قدرتی وسائل ہیں انہیں نکال کر یہاں کے عوام پر خرچ کیا جائے۔ بد قسمتی سے یہاں کے قدرتی وسائل پر یہاں کے عوام کی دسترس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور مسلح تنظیمیں طاقت کی استعمال سے گریز کریں اور ’مذاکرات کی راہ اپنائیں مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے اور امن قائم، بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔‘
میر صادق عمرانی نے کہا کہ ’ہم کابینہ کے رکن ہیں۔ ہم وزیراعلیٰ کی پالیسوں سے اختلاف نہیں کر سکتے۔ اگر میں یہ کہوں کے امن امان تسلی بخش ہے تو اس سے عوام کی پر حالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔اگر عوام یہ محسوس کریں کہ وہ آزادانہ طور گھوم پھر سکتے کاروبار میں کوئی رکاوٹ نہیں تو پھر یقین کیا جا سکتا ہے لیکن میں ذاتی طور امن امان کو غیر تسلی بخش سمجھتا ہوں۔‘ صادق عمرانی نے مزید کہا کہ ان سمیت لوگوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ کون اور کہاں سے دھمکیاں دے رہا ہے؟ اسمبلی فلور پر میں واضح طور پر کہا کہ عوامی نمائندوں سمیت کوئی شہری محفوظ نہیں اور وہ اسمبلی میں کی گئی تقریر اب بھی قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور سیکورٹی ادارے صوبے میں امن وامان قائم کرنے کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں۔ عوام فوری طور پر امن وامان چاہتی ہیں۔ سیکورٹی ادارے بھی فوری طور پر امن قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن ان کا ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت وہ ا پنا کام کررہے ہیں۔
یہ تاثر غلط ہے کہ سیکورٹی ادارے اور صوبائی حکومت ایک پیکج پر نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ ان کے ذاتی دوست ہیں۔ مرکزی قیادت نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق ہمارا ان پر اعتماد ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھائیں گے تو عوام ان کو یاد رکھے گے اگر وہ اچھا کام نہیں کریں گے تو تاریخ اور عوام انہیں معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے توقعات بہت زیادہ ہیں لیکن وسائل انتہائی محدود ہیں۔ صوبے کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر 200 لوگوں کو روزگار فراہم کرسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وزیرا علیٰ نے بار بار اس حوالے سے مسلح تنظیموں کو پیش کش کی ہے کہ آئین اور قانون کے دائرہ میں رہ کر حکومت سے بات کریں۔‘ بلوچستان میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی ڈھائی ڈھائی سال حکومت کے فارمولے پر صادق عمرانی نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پیپلزپارٹی کے نظریاتی کارکن رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ 53 سالہ پارٹی کے ساتھ ان کی وابستگی ہے ذوالفقار علی بھٹو، نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو اور اب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert