ارشد وارثی کا پاکستانی مزاح پر تضحیک آمیز تبصرہ، سوشل میڈیا پر سخت ردعمل
ارشد وارثی کے ریمارکس پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو پسند نہیں آئے

ممبئی(قدرت روزنامہ)بالی ووڈ کے معروف اداکار ارشد وارثی پاکستانی مزاح کے بارے میں اپنے حالیہ ریمارکس کے بعد شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ان کے بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی، جہاں متعدد پاکستانی صارفین نے نہ صرف ان کے مؤقف سے اختلاف کیا بلکہ بھارتی کامیڈی شوز کو زیادہ توہین آمیز قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل بھی دیا۔
ایک حالیہ گفتگو کے دوران ارشد وارثی نے کہا کہ وہ پاکستانی کامیڈی کے زیادہ مداح نہیں ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس میں اکثر مزاح کا انداز توہین، تضحیک اور لوگوں کے نام بگاڑنے پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بہت سے لوگ اس قسم کے مزاح کو پسند کرتے ہیں، تاہم انہیں ذاتی طور پر ایسا یا جنسی نوعیت کا مزاح پسند نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف ان کی ذاتی رائے ہے۔
اسی گفتگو میں معروف فلمساز راج کمار ہیرانی نے مختلف نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ مزاح میں سماجی اور ثقافتی شناختوں کو مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر ہر حساس پہلو کو نکال دیا جائے تو کامیڈی کی اصل روح متاثر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مختلف قومیتوں اور برادریوں پر مبنی لطیفے دنیا بھر کی مزاحیہ روایت کا حصہ رہے ہیں، اس لیے انہیں مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔
راج کمار ہیرانی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے ارشد وارثی نے بھی کہا کہ لوگوں کو بعض اوقات باتوں کو ہلکے پھلکے انداز میں لینا چاہیے اور ہر چیز کو ضرورت سے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔
تاہم ارشد وارثی کے یہ ریمارکس پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو پسند نہیں آئے۔ کئی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستانی مزاح میں توہین آمیز مواد نہیں ہوتا، جبکہ بھارتی کامیڈی پروگراموں میں گالم گلوچ، ذومعنی جملے اور تضحیک زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔
بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ ارشد وارثی کو پاکستانی مزاح سے آخر کیا مسئلہ ہے، جبکہ دوسروں نے بھارتی کامیڈی شوز، خصوصاً کپل شرما شو، ریئلٹی پروگرامز اور اسٹینڈ اپ کامیڈینز کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی مزاح میں ذومعنی جملوں اور غیر مناسب مواد کی بھرمار ہوتی ہے۔
چند صارفین نے حالیہ متنازع بھارتی شو ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ اور اسٹینڈ اپ کامیڈینز کے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بھی توہین آمیز مزاح پر شدید اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے پاکستانی کامیڈی پر تنقید مناسب نہیں۔ بعض تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی کامیڈی اکثر نسل پرستانہ یا گالم گلوچ پر مبنی ہوتی ہے، جبکہ پاکستانی مزاح نسبتاً خاندانی اور شائستہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اب بھی زیر بحث ہے، جہاں ایک طرف کچھ افراد ارشد وارثی کی رائے کو ان کا ذاتی نقطۂ نظر قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بڑی تعداد میں صارفین اسے پاکستانی مزاح کے بارے میں غیر منصفانہ اور غیر ضروری تبصرہ قرار دے رہی ہے۔
