فیفا ورلڈ کپ: ایونٹ میں ریڈ کارڈز دِکھانے سے متعلق دلچسپ انکشاف!

ہوسٹن (قدرت روزنامہ)ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ رواں ورلڈ کپ میں ریڈ کارڈز کی تعداد گزشتہ دو ٹورنامنٹس کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جس کی بڑی وجہ ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) ٹیکنالوجی میں ہونے والی بہتری قرار دی جا رہی ہے۔
نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے ورلڈ کپ میچز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جس کے مطابق شمالی امریکا میں جاری ٹورنامنٹ کے دوران اب تک 14 ریڈ کارڈز دکھائے جا چکے ہیں جبکہ 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر صرف 4، 4 ریڈ کارڈز جاری کیے گئے تھے۔
تحقیق کے مطابق کم از کم تین ایسے واقعات سامنے آئے جن میں ریفری نے ابتدا میں یلو کارڈ دیا لیکن وی اے آر فوٹیج دیکھنے کے بعد فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ریڈ کارڈ جاری کر دیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ وی اے آر کی بہتر ٹیکنالوجی ریفریز کو خطرناک فاؤلز اور سنگین خلاف ورزیوں کی زیادہ درست نشاندہی کرنے میں مدد دے رہی ہے، جس کے باعث ریڈ کارڈز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق کے مطابق جہاں ریڈ کارڈز میں اضافہ ہوا ہے، وہیں یلو کارڈز کی اوسط تعداد میں کمی آئی ہے۔ رواں ٹورنامنٹ میں فی میچ اوسطاً 2.52 یلو کارڈز جاری ہوئے جبکہ 2018 میں یہ اوسط 3.20 اور 2022 میں 3.50 فی میچ تھی۔
