زیارت مانگی ڈیم فیز تھری کے شہداء کے دھرنے کے حوالے سے آل پارٹیز اور لواحقین کا مشترکہ اجلاس

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)زیارت مانگی ڈیم فیز تھری کے شہداء کے دھرنے کے حوالے سے آل پارٹیز اور شہداء کے لواحقین کا ایک اہم مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کی۔
اجلاس میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عیسیٰ روشان ،صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی سیکرٹری اول فقیر خوشحال کاسی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبای صدر اصغر خان اچگزئی، رشید خان ناصر، ثناء اللہ کاکڑ، پشتونخوا میپ کے صوبای صدر عبدالقہار ودان ،جمعیت علماء اسلام کے مولانا کمال الدین، جماعت اسلامی کے عبدالمتین آخنذادہ ، جمیل مشوانی، حلیم حماس ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان، پاکستان تحریک انصاف کے نور خان خلجی ، ایم این اے عادل خان بازئی، گل اکبر دومڑ ، نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ ایڈوکیٹ، علی احمد لانگو، بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغا حسن بلوچ، مظلوم اولسی تحریک کے صدر عباس خان درانی ،سیاسی رھنما اسفندیار کاکڑ، شہداء کے لواحقین میں نسیم خان، ڈاکٹر عبدالصمد، طارق ترین، نواز خان، نقیب اللہ، فیروز خان، حاجی زین اللہ، ڈاکٹر ہدایت اللہ اور انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکڑ اور حضرت علی اچکزئی نے شرکت کی۔
اجلاس میں جاری دھرنے کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور دھرنے میں ہزاروں افراد کی شرکت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
اعلان کردہ احتجاجی پروگرام
15 جولائی بروز بدھ
ژوب، ہرنائی، چمن، تربت، گوادر اور پنجگور میں عظیم الشان احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔
16 جولائی بروز جمعرات
کوئلہ پاٹک کے دھرنے میں خواتین اور بچے خصوصی احتجاجی دھرنا دیں گے۔
17 جولائی بروز جمعہ صوبہ بھر میں
مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اس کے بعد مزید سخت احتجاجی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی سربراہی عبدالرحیم زیارتوال، نصراللہ زیرے، جمعیت علماء اسلام کے نمائندے، جبکہ ایم این اے عادل خان بازئی، اصغر خان ا چگزئی اور آغا حسن بلوچ کریں گے، جبکہ اس میں شہداء کے لواحقین کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔اجلاس میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے بھی ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں چنگیز حئی بلوچ ایڈوکیٹ، سلام آغا ایڈوکیٹ، صادق علی زئی ایڈوکیٹ، حبیب اللہ ناصر ایڈوکیٹ، مصور خان ترین ایڈوکیٹ، سردار شیردل مینگل ایڈوکیٹ اور ساجد ترین ایڈوکیٹ شامل ہوں گے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت فوری طور پر مانگی ڈیم زیارت کے شہداء کے لواحقین کے مطالبات تسلیم کرے۔
ایک آزاد اور بااختیار جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جس کے ٹرمز اینڈ کنڈیشنز واضح ہوں۔
زیارت، ہرنائی، شہبان،تکتو ، زرغون اور دیگر علاقوں سے مسلح جتھوں اور دہشت گرد عناصر کا مکمل صفایا کیا جائے۔
لیویز فورس کو دوبارہ بحال کیا جائے۔
ایف سی کو صوبے سے واپس کیا جائے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ مانگی ڈیم زیارت کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
