ڈاکٹر مالک بلوچ اچانک متحرک ‘ چار اہم ملاقاتیں ‘ بلوچستان میں کیا ہورہا ہے ؟ سیاسی حلقوں میں چہہ مگوئیاں


کوئٹہ،اسلام آباد (ڈیلی قدرت)بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور حکومت میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کے درمیان نیشنل پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اسلام آباد میں اپنی سیاسی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقاتوں کے بعد آج نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی اہم ملاقات کی، جس سے بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں نیشنل پارٹی کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، معاشی اور ترقیاتی صورتحال، امن و امان اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل، صوبے کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بلوچستان کی معاشی ترقی، عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ وفاق صوبے کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔اس موقع پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان میں پائیدار امن، سیاسی استحکام، عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے تمام جمہوری سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرگرم شورش پسند عناصر کو نہ عوامی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی ان کے اقدامات کا کوئی اخلاقی جواز موجود ہے، اس لیے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور عوامی اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ملاقات میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، سیاسی استحکام، ترقیاتی منصوبوں، عوامی مسائل کے حل اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون کے فروغ سمیت مختلف امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی وزیراعظم شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، شاہد خاقان عباسی اور اسحاق ڈار سے مسلسل ملاقاتوں نے بلوچستان کی مستقبل کی سیاسی صورتحال، ممکنہ سیاسی مفاہمت اور حکومت میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے مختلف حلقوں میں قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے، تاہم ان ملاقاتوں کے حوالے سے کسی بھی سیاسی تبدیلی یا حکومتی فیصلے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert