مستونگ میں سیشن جج کی گاڑی پر دہشت گردوں کا حملہ؛ جج عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ریاست پر حملہ ہے، دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے؛ وزیراعلیٰ، وزراء اور حکومتی عہدیداران کی شدید مذمت

حکومت کی رٹ ختم ہو چکی، مستعفی ہو؛ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کا مطالبہ
بلوچستان بار کونسل کا 2 روزہ عدالتی ہڑتال اور 3 روزہ سوگ کا اعلان
کوئٹہ (ڈیلی قدرت)مستونگ میں ولی خان بائی پاس پر ریلوے پھاٹک کے قریب دہشت گردوں نے ججز کی گاڑی پر قاتلانہ حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین محمد زمان موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس ہولناک واقعے میں ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے ہیں۔ جج صاحبان کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آ رہے تھے جب ان کی گاڑی کو نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ شہید سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کا تعلق توبہ کاکڑی سے تھا۔

۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اور بھرپور کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
-
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ سیشن جج پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ ہے اور قانون کے محافظوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا اور صوبے میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی۔
-
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات شاہد رند نے کہا کہ وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے، تاہم ریاستی دشمن عناصر کے خلاف کارروائی دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کے مکمل قلع قمع تک جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
-
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے آئی جی پولیس اور کمشنر سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔
-
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور اس کے ادارے امن کے دشمنوں کا ان کی قبروں تک پیچھا کریں گے اور بے گناہوں کا خون بہانے والے جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
بلوچستان بار کونسل کا ہڑتال اور سوگ کا اعلان
اس المناک واقعے کے خلاف اور عدلیہ کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے بلوچستان بار کونسل نے پورے صوبے میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے
-
بلوچستان بار کونسل نے اس بزدلانہ حملے کو قانون کی حکمرانی اور نظام انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ اس المناک واقعے کے خلاف احتجاج، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور زخمی جج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بار کونسل نے پورے صوبہ بلوچستان میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ کونسل نے وکلاء سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی ہنگامی نوعیت کے مقدمات کے علاوہ عدالتوں میں پیش نہ ہوں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
-
جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دن دہاڑے معزز عدالتی افسران کو نشانہ بنایا جانا ریاستی رٹ پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے مولانا صاحب کی کردار کشی میں مصروف ہیں۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کی رٹ عملاً ختم ہو چکی ہے، لہٰذا صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری طور پر استعفیٰ دے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ نے ایک تفصیلی مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے سیشن جج اور ان کے گن مین کی شہادت کو عدلیہ اور پورے معاشرے پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔
-
پارٹی نے واضح کیا کہ مستونگ، کھڈ کوچہ، منگوچر، خضدار اور زیارت سمیت دیگر علاقوں میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے خونریز واقعات، ٹارگٹ کلنگ اور مسافروں کا قتلِ عام اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
-
بیان میں سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھاری نفری، متعدد چیک پوسٹوں اور وسیع اختیارات کے باوجود دہشت گردوں کا کھلے عام حملے کرنا اور پھر باآسانی فرار ہو جانا ایف سی اور دیگر اداروں کی کارکردگی پر انتہائی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
-
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے صوبائی حکومت سے فوری مستعفی ہونے کا پرزور مطالبہ کیا ہے اور زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں اس حکومت کا مزید اقتدار میں رہنا شہداء کے خون کی توہین ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر واقعے کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدار عدالتی تحقیقات نہ کرائی گئیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا، تو وہ دیگر جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر ہر آئینی اور احتجاجی راستہ اختیار کریں گے۔
