کوئٹہ میں پانی کا سنگین بحران،حکومتی غفلت قابل مذمت ہے، پشتونخوامیپ
واٹر ٹینکرز کا احتجاج، فی ٹینکرز ہزاروں میں، غریب عوام بے بس اور سخت مشکلات سے دوچار ہیں، محکمہ واسا پہلے ہی پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں ناکام ہے

شہر کے لاکھوں شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں، لیکن حکومت اور ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، بیان میں پانی کی فراہمی کا مطالبہ
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر وضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں واٹر ٹینکرز مالکان کی ہڑتال نے شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ پہلے ہی محکمہ واسا شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہو چکا تھا، جبکہ واٹر ٹینکرز کی بندش نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ آج شہر کے لاکھوں شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں لیکن حکومت اور ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ جس پانی کے ٹینکر کی قیمت چند روز قبل 2500 سے 3000 روپے تھی، وہ اب مصنوعی قلت اور بحران کے باعث بلیک مارکیٹ میں 7000 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں غریب اور متوسط طبقہ اتنی بھاری قیمت ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا جس کے باعث ہزاروں خاندان شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری افسران اور بااثر طبقات سرکاری واٹر سپلائی اسکیموں سے باآسانی پانی حاصل کر رہے ہیں، جبکہ عام شہری، خصوصاً غریب عوام، پانی کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔اس قسم کے امتیازنہ برتاؤ قابل افسوس ہے۔واٹر ٹینکرز مالکان کی جانب سے گرفتاریوں کے ردعمل میں پورے شہر کو پانی سے محروم کرنا عوامی مفاد کے خلاف اقدام ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ شہریوں کو یرغمال بنا کر اپنے مطالبات منوانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اگر واٹر ٹینکرز مالکان کے مطالبات قانونی اور جائز ہیں تو حکومت فوری مذاکرات کے ذریعے انہیں حل کرے اور اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاہم اس تنازعے کی سزا لاکھوں بے گناہ شہریوں کو دینا کسی صورت درست نہیں۔جبکہ مستقبل میں ہنگامی بنیادوں پر شہریوں کو پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم کرنے والے بحران کا مستقل اور پائیدار حل نکالا جائے تاکہ مستقبل میں عوام کو ایسی اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کیونکہ عوام مزید بے حسی، نااہلی اور انتظامی غفلت برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔بیان میں حکومت، کمشنر کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور محکمہ واسا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس سنگین انسانی بحران کا فوری نوٹس لیں اور ہنگامی بنیادوں پر شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کریں۔
